کا رہنما ہے اور وہ مبارک کتاب لایا ہے جس میں شخص پیرو کیؔ امراضِ روحانی دین کا لبؔ لباب ہے سورۃ فاتحہ میں بتمام تر خوبی و رعایت ایجاز و خوش اسلوبی بیان کئے گئے ہیں چنانچہ پہلی ترقی کہ جو قربت کے میدانوں میں چلنے کے لئے اول قدم ہے اس آیت میں تعلیم کی گئی ہے جو فرمایا ہے اھدنا الصراط المستقیم۔ کیونکہ ہے ایسے نہیں تھے جو بجز آیاتِ صریحہ و براہین قطعیہ اپنے کفر سے باز آجاتے بلکہ وہ اس مکر میں لگے ہوئے تھے کہ تا کسی طرح باغ اسلام کو صفحۂ زمین سے نیست و نابود کردیں۔ اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دنیا میں اندھیرپڑجاتا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے جو دنیا کو ان آیات بیّنات کی نہایت ضرورت تھی اور دنیا کے لوگ جو اپنے کفر اور خبث کی بیماری سے مجذوم کی طرح گداز ہوگئے ہیں وہ بجز اس آسمانی دوا کے جو حقیقت میں حق کے طالبوں کے لئے آب حیات تھی تندرستی حاصل نہیں کرسکتے تھے۔ واذا قیل لھم لا تفسدوا فی ؔ الارض قالوا انما نحن مصلحون۔ الا انھم ھم المفسدون۔ قل اعوذ برب الفلق من شر ما خلق ومن شر غاسق اذا وقب۔ اور جب ان کو کہا جائے کہ تم زمین میں فساد مت کرو۔ اور کفر اور شرک اور بدعقیدگی کو مت پھیلاؤ تو وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ہی راستہ ٹھیک ہے اور ہم مفسد نہیں ہیں بلکہ مصلح اور ریفارمر ہیں۔ خبردار رہو۔ یہی لوگ مفسد ہیں جو زمین پرفساد کررہے ہیں۔ کہہ میں شریر مخلوقات کی شرارتوں سے خدا کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں اور اندھیری رات سے خدا کی پناہ میں آتا ہوں یعنی یہ زمانہ اپنے فساد عظیم کے رو سے اندھیری رات کی مانند ہے سو الٰہی قوتیں اور طاقتیں اس زمانہ کی تنویر کے لئے درکار ہیں۔ انسانی طاقتوں سے یہ کام انجام ہونا محال ہے۔ انی ناصرک۔ انی حافظک۔ انی جاعلک للناس اماما۔ اکان للناس عجبا۔ قل ھو اللّٰہ عجیب۔ یجتبی من یشآء من عبادہ۔ لا یُسئل عما یفعل وھم یُسئلون۔ وتلک الایام نداولھا بین الناس۔ میں تیری مدد کروں گا۔ میں تیری حفاظت کروں گا۔ میں تجھے لوگوں کے لئے پیشرو بناؤں گا۔ کیا لوگوں