میں جاپڑتا ہے۔ پس اگر شارع طبیب حاذقؔ کی طرح ٹھیک ٹھیک صراطِ مستقیم جن سے وہ دیکھتا ہے۔ اور اس کا ہاتھؔ ہوگیا جس سے وہ پکڑتا ہے۔ اور اس کا پاؤں ہوگیا جس سے وہ چلتا ہے تو پھر کوئی ظلم اس میں باقی نہ رہا اور ہریک خطرہ سے امن میں آگیا۔ اسی درجہ کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ 333333 ۱؂ اب سمجھنا چاہئے کہ یہ ترقیات ثلاثہ کہ جو تمام علوم و معارف کا اصل الاصول بلکہ تمام خاطرِ خود زین و آن یکسر برآر تاشود بر خاطرت حق آشکار زیر پا کن دلبرانِ ایں جہان تانماید چہرۂ آں محبوب جان کاملانِ حیّ اند ہم زیر زمیں تو بگوری باحیاتِ ایں چنیں سالہا باید کہ خون دل خوری تا بکوئے دلستانے رہبری کے بآسانی رہے بکشایدت صد جنوں باید کہ تا ہوش آیدت واذا سألک عبادی عنی فانی قریب۔ اجیب دعوۃ الداع اذا دعان۔ وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین۔ اور جب تجھ سے میرے بندے میرے بارے میں سوال کریں تو میں نزدیک ہوں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں اور میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے کہ تا سب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔ لم یکن الذین کفروا من اھل الکتاب والمشرکین منفکین حتی تأتیھم البینۃ۔ وکان کیدھم عظیما۔ اور جو لوگ اہل کتاب اور مشرکوں میں سے کافر ہوگئے ہیں یعنی کفر پر سخت اصرار اختیار کرلیا ہے وہ اپنے کفر سے بجز اس کے باز آنے والے نہیں تھے کہ ان کو کھلی نشانی دکھلائی جاتی اور ان کا مکر ایک بھارا مکر تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو کچھ خدائے تعالیٰ نے آیات سماوی اور دلائل عقلی سے اس عاجز کے ہاتھ میں ظاہر کیا ہے وہ اتمام حجت کے لئے نہایت ضروری تھا۔ اور اس زمانہ کے سیاہ باطن جن کو جہل اور خبث کے کیڑے نے اندر ہی اندر کھالیا