کا علاج ہے اور اس کی علمی اور عملی تکمیل کے لئے پورا سامان موجود ہے۔ ہریک قسم کی کجی اور بے راہی سے باز آکر اور بالکل روبخدا ہوکر راہ راست کو اختیار کرنا یہ وہی سخت گھاٹی ہے جس کو دوسرے لفظوں میں فنا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ امور مالوفہ اور معتادہ کو یکلخت ؔ چھوڑ دینا اور نفسانی خواہشوں کو جو ایک عمر سے عادت ہوچکی ہے یکدفعہ ترک کرنا اور ہریک ننگ اور ناموس اور عجب کو تعجب ہوا کہ خدا ذوالعجائب ہے ہمیشہ عجیب کام ظہور میں لاتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے چن لیتا ہے وہ اپنے کاموں سے پوچھا نہیں جاتا کہ ایسا کیوں کیا اور لوگ پوچھے جاتے ہیں اور ہم یہ دن لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں یعنی کبھی کسی کی نوبت آتی ہے اور کبھی کسی کی اور عنایات الٰہیہ نوبت بہ نوبت امت محمدیہ کے مختلف افراد پر وارد ہوتے رہتے ہیں۔ وقالوا انّٰی لک ھذا۔ وقالوا ان ھذا الا اختلاق۔ اذا نصراللّٰہ المؤمن جعل لہ الحاسدین فی الارض فالنار موعدھم۔ قل اللّٰہ ثم ذرھم فی خوضھم یلعبون۔اور کہیں گے کہ یہ تجھ کو کہاں سے۔ اور یہ تو ایک بناوٹ ہے۔ خدائے تعالیٰ جب مومن کی مدد کرتا ہے تو زمین پر کئی اُس کے حاسد بنا دیتا ہے سو جو لوگ حسد پر اصرار کریں اور باز نہ آویں تو جہنم ان کا وعدہ گاہ ہے۔ کہہ یہ سب کاروبار خدا کی طرف سے ہیں پھر ان کو چھوڑ دے تا اپنے بے جا خوض میں کھیلتے رہیں۔ تلطف بالناس و ترحم علیھم انت فیھم بمنزؔ لۃ موسٰی واصبر علی ما یقولون۔ لوگوں کے ساتھ رفق اور نرمی سے پیش آ اور ان پر رحم کر۔ تو ان میں بمنزلہ موسیٰ کے ہے۔ اور ان کی باتوں پر صبر کر۔ حضرت موسیٰ ُ بردباری اور حلم میں بنی اسرائیل کے تمام نبیوں سے سبقت لے گئے تھے۔ اور بنی اسرائیل میں نہ مسیح اور نہ کوئی دوسرا نبی ایسا نہیں ہوا جو حضرت موسیٰ کے مرتبہ عالیہ تک پہنچ سکے۔ توریت سے ثابت ہے جو حضرت موسیٰ رفق اور حلم اور اخلاق فاضلہ میں سب اسرائیلی نبیوں سے بہتر اور فائق تر تھے جیسا کہ گنتی باب دو از دہم آیت سوم توریت میں لکھا ہے کہ موسیٰ سارے لوگوں سے جو روئے زمین پر تھے زیادہ بردبار تھا