وہ اِس صورت میںؔ بالکل اپنے نفس سے محو ہوکر اپنے شارع کی ذمہ واری
جیسا کہ چاہئے تھا ادا نہیں کیا۔ اور لقاء تام حاصل کرنے سے ہنوز قاصر ہے۔ لیکن جب اس کی سرشت میں محبتِ الٰہی اور موافقت باللہ بخوبی داخل ہوگئی یہاں تک کہ خدا اس کے کان ہوگیا جن سے وہ سنتا ہے۔ اور اس کی آنکھیں ہوگیا
سڑکوں کو خس و خاشاک سے صاف کردیں گے اور کج اور ناراست کا نام و نشان نہ رہے گا۔ اور جلال الٰہی گمراہی کے تخم کو اپنی تجلی قہری سے نیست و نابود کردے گا۔ اور یہ زمانہ اس زمانہ کے لئے بطور ارہاص کے واقع ہوا ہے یعنی اس وقت جلالی طور پر خدائے تعالیٰ اتمام حجت کرے گا۔ اب بجائے اس کے جمالی طور پر یعنی رفق اور احسان سے اتمام حجت کررہا ہے۔ توبوا واصلحوا والی اللّٰہ توجھوا وعلی اللّٰہ توکلوا واستعینوا بالصبر والصلٰوۃ۔ توبہ کرو اور فسق اور فجور اور کفر اور معصیت سے باز آؤ اور اپنے حال کی اصلاح کرو اور خدا کی طرف متوجہ ہوجاؤ اور اس پر توکل کرو۔ اور صبر اور صلٰوۃ کے ساتھ اس سے مدد چاہو۔ کیونکہ نیکیوں سے بدیاں دور ہوجاتی ہیں۔ بشری لک یا احمدی۔ انت مرادی ومعی۔ غرست کرامتک بیدی۔ خوشخبری ہو تجھے اے میرے احمد۔ تو میری مراد ہے اور میرے ساتھ ہے۔ میں نے تیری کرامت کو اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔ قل للمؤمنین یغضوا من ابصارھم و یحفظوا فروجھم ذالک ازکٰی لھم۔ مومنین کو کہہ دے کہ اپنی آنکھیں نامحرموں سے بند رکھیں اور اپنی سترگاہوں کو اور کانوں کو نالائق امور سے بچاویں یہی ان کی پاکیزگی کے لئے ضروری اور لازم ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہریک مومن کے لئے منہیات سے پرہیز کرنا اور اپنے اعضا کو ناجائز افعال سے محفوظ رکھنا لازم ہے اور یہی طریق اس کی پاکیزگی کا مدار ہے۔
چشم گوش و دیدہ بند اے حق گزین
یاد کُن فرمان قل للمؤمنین