نے منع کیا ہے اور اُسی کتاب کا پابند رہتا ہے جو اُس کے شارع نے دی ہے تو
برخلاف قسمِ دوم کے کہ اُس میں اِنفکاک جائز ہے اور جب تک ولایت کسی ولی کی قِسم سوم تک نہیں پہنچتی عارضی ہے اور خطرات سے امن میں نہیں۔ وجہؔ یہ کہ جب تک انسان کی سرشت میں خدا کی محبت اور اس کے غیر کی عداوت داخل نہیں۔ تب تک کچھ رگ و ریشہ ظلم کا اس میں باقی ہے کیونکہ اُس نے حق ربوبیت کو
خلق آدم فاکرمہ۔پیدا کیا آدم کو پس اکرام کیا اس کا۔ جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء جری اللہ نبیوں کے حلوں میں۔ اس فقرہ الہامی کے یہ معنے ہیں کہ منصب ارشاد و ہدایت اور مورد وحی الٰہی ہونے کا دراصل حلۂ انبیاء ہے اور ان کے غیر کوبطور مستعار ملتا ہے اور یہ حلۂ انبیاء امت محمدیہ کے بعض افراد کوبغرض تکمیلِ ناقصین عطا ہوتا ہے اور اسی کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عُلَمَآءُ اُمَّتِیْ کَأَنْبِیَآءِ بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ۔ پس یہ لوگ اگرچہ نبی نہیں پر نبیوں کا کام ان کو سپرد کیا جاتا ہے۔ وکنتم علی شفا حفرۃ فانقذکم منھا۔ اور تھے تم ایک گڑھے کے کنارہ پر سو اس سے تم کو خلاصی بخشی یعنی خلاصی کا سامان عطا فرمایا۔ عسٰی ربکم انؔ یرحم علیکم وان عدتم عدنا وجعلنا جھنم للکافرین حصیرا۔ خدائے تعالیٰ کا ارادہ اس بات کی طرف متوجہ ہے جو تم پر رحم کرے اور اگر تم نے گناہ اور سرکشی کی طرف رجوع کیا تو ہم بھی سزا اور عقوبت کی طرف رجوع کریں گے اور ہم نے جہنم کو کافروں کے لئے قید خانہ بنا رکھا ہے۔ یہ آیت اس مقام میں حضرت مسیح کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ ہے یعنی اگر طریق رفق اور نرمی اور لطف احسان کو قبول نہیں کریں گے اور حق محض جو دلائل واضحہ اور آیات بینہ سے کھل گیا ہے اس سے سرکش رہیں گے۔ تو وہ زمانہ بھی آنے والا ہے کہ جب خدائے تعالیٰ مجرمین کے لئے شدت اور عنف اور قہر اور سختی کو استعمال میں لائے گا اور حضرت مسیح علیہ السلام نہایت جلالیت کے ساتھ دنیا پر اتریں گے اور تمام راہوں اور