شارع نے فرمایا ہے اور اُس امر سے پرہیز کرتا ہے کہ جو اُس کے شارعؔ اُس مقصد کے حصول سے وہ لذت پاتا ہے لیکن قسم سوم کی ترقی میں خدا سے موافقت تامہ اور اس کے غیر سے عداوت خود سالک کی سرشت ہوجاتی ہے جس سرشت کو وہ کسی حالت میں چھوڑ نہیں سکتا۔ کیونکہ انفکاک الشی عن نفسہٖ محال ہے۔ تاللہ لقد ارسلنا الی امم من قبلک فزین لھم الشیطان۔ ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے کہ ہم نے تجھ سے پہلے امت محمدیہ میں کئی اولیاء کامل بھیجے پر شیطان نے ان کی توابع کی راہ کو بگاڑ دیا۔ یعنی طرح طرح کی بدعات مخلوط ہوگئیں اور سیدھا قرآنی راہ ان میں محفوظ نہ رہا۔ قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ۔ واعلموا ان اللہ یحی الارض بعد موتھا۔ ومن کان للّٰہ کان اللّٰہ لہ۔ قل ان افتریتہ فعلی اجرام شدید۔کہہ اگر تم خدا سے محبت رکھتے ہو سو میری پیروی کرو۔ یعنی اتباع رسول مقبول کرو تا خدا بھی تم سے محبت رکھے۔ اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ نئے سرے زمین کو زندہ کرتا ہے۔ اور جو شخص خدا کے لئے ہوجائے خدا اس کے لئے ہوجاتا ہے۔ کہہ اگر میں نے یہ افترا کیا ہے تو میرے پر جرم شدید ہے۔ انک الیوم لدینا مکین امین۔ وان علیک رحمتی فی الدنیا والدین۔ وانک من المنصورین۔ آج تو میرے نزدیک بامرتبہ اور امین ہے اور تیرے پر میری رحمت دنیا اور دین میں ہے اور تو مدد دیا گیا ہے۔ یحمدک اللّٰہ و یمشی الیک۔ خدا تیری تعریف کرتا ہے اور تیری طرف چلا آتا ہے۔ الا ان نصراللہ قریب۔ خبردار ہو خدا کی مدد نزدیک ہے۔ سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندہ کو رات کے وقت میں سیر کرایا یعنی ضلالت اور گمراہی کے زمانہ میں جو رات سے مشابہ ہے مقامات معرفت اور یقین تک لدُنیّ طور سے پہنچایا۔