سے ظہور پذیر ہوجاتا ہے یہ ہے کہ جب ایک شخص وہیؔ امر بجالاتا ہے کہ جو اُس کے ماسوی اللہ کے ساتھ عداوت ذاتی پیدا ہوجانے کا موجب ہو اور جس سے محبت الٰہی صرف دل کا مقصد ہی نہ رہے بلکہ دل کی سرشت بھی ہوجائے۔ غرض قسم دویم کی ترقی میں خدا سے موافقت تامہ کرنا اور اس کے غیر سے عداوت رکھناؔ سالک کا مقصد ہوتا ہے اور نماز مغرب کے بعد عین بیداری میں ایک تھوڑی سی َ غیبتِ حس سے جو خفیف سے نشاء سے مشابہ تھی ایک عجیب عالم ظاہر ہوا کہ پہلے یکدفعہ چند آدمیوں کے جلد جلد آنے کی آواز آئی، جیسی بسرعت چلنے کی حالت میں پاؤں کی جوتی اور موزہ کی آواز آتی ہے پھر اسی وقت پانچ آدمی نہایت وجیہہ اور مقبول اور خوبصورت سامنے آگئے یعنی جناب پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم و حضرت علیؓ و حسنینؓ و فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہم اجمعین اور ایک نے ان میں سے اور ایسا یاد پڑتا ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے مادر مہربان کی طرح اس عاجز کا سر اپنی ران پر رکھ لیا پھر بعد اس کے ایک کتاب مجھ کو دی گئی۔ جس کی نسبت یہ بتلایا گیا کہ یہ تفیسر قرآن ہے جس کو علی نے تالیف کیا ہے۔ اور اب علی وہ تفسیر تجھ کو دیتا ہے فالحمدللہ علی ذالک۔ پھر بعد اس کے یہ الہام ہوا۔ انک علی صراط مستقیم۔ فاصدع بما تؤمر و اعرض عن الجاھلین۔ تو سیدھی راہ پر ہے۔ پس جو حکم کیا جاتا ہے اس کو کھول کر سنا اور جاہلوں سے کنارہ کر۔ وقالوا لولا نزل علی رجل من قریتین عظیم۔ وقالوا انی لک ھذا۔ ان ھذا لمکرمکرتموہ فی ؔ المدینۃ۔ ینظرون الیک و ھم لا یبصرون۔ اور کہیں گے کہ کیوں نہیں یہ اترا کسی بڑے عالم فاضل پر اور شہروں میں سے۔ اور کہیں گے کہ یہ مرتبہ تجھ کو کہاں سے ملا یہ تو ایک مکر ہے جو تم نے شہر میں باہم مل کر بنالیا ہے تیری طرف دیکھتے ہیں اور نہیں دیکھتے۔ یعنی تو انہیں نظر نہیں آتا۔