اُس کا مشروط ہے اورسِرّ اِس باتؔ کا کہ کیوں معجزہ نبی کا دوسرے کے توسّط عداوتِ ذاتی پیدا ہوجاتی ہے اور اس میں اور قسم ؔ دویم کی ترقی میں فرق یہ ہے کہ گو قسم دویم میں بھی اپنے رب کی مرضی سے موافقت تامہ پیدا ہوجاتی ہے اور اُس کا ایلام بصورت انعام نظر آتا ہے۔ مگر ہنوز اس میں ایسا تعلق باللہ نہیں ہوتا کہ جو خادم ایک دنیا کا مخدوم بنایا جاتا ہے۔ ہیچ محبوبے نماند ہمچو یار دلبرم مہرومہ را نیست قدرے در دیارِ دلبرم آں کجا روئے کہ دارد ہمچو رویش آب و تاب واں کجا باغے کہ مے دارد بہار دلبرم اس مقام میں مجھ کو یاد آیا کہ ایک رات اس عاجز نے اس کثرت سے درود شریف پڑھا کہ دل و جان اس سے معطر ہوگیا۔ اسی رات خواب میں دیکھا کہ آب زلال کی شکل پر نور کی مشکیں اس عاجز کے مکان میں لئے آتے ہیں۔ اور ایک نے ان میں سے کہا کہ یہ وہی برکات ہیں جو تو نے محمد کی طرف بھیجی تھیں صلی اللہ علیہ وسلم۔ اور ایسا ہی عجیب ایک اور قصہ یاد آیا ہے کہ ایک مرتبہ الہام ہوا جس کے معنے یہ تھے کہ ملاء اعلیٰ کے لوگ خصومت میں ہیں یعنی ارادۂ الٰہی احیاء دین کے لئے جوش میں ہے لیکن ہنوز ملاء اعلیٰ پر شخص محیی کی تعین ظاہر نہیں ہوئی ؔ اس لئے وہ اختلاف میں ہے۔ اسی اثناء میں خواب میں دیکھا کہ لوگ ایک محی کو تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ اور ایک شخص اس عاجز کے سامنے آیا اور اشارہ سے اس نے کہا ھذا رجل یحب رسول اللہ یعنی یہ وہ آدمی ہے جو رسول اللہ سے محبت رکھتا ہے۔ اور اس قول سے یہ مطلب تھا کہ شرط اعظم اس عہدہ کی محبت رسول ہے۔ سو وہ اس شخص میں متحقق ہے۔ اور ایسا ہی الہام متذکرہ بالا میں جو آل رسول پر درود بھیجنے کا حکم ہے سو اس میں بھی یہی سِرّ ہے کہ افاضہ انوار الٰہی میں محبت اہل بیت کو بھی نہایت عظیم دخل ہے۔ اور جو شخص حضرت احدیّت کے مقربین میں داخل ہوتا ہے وہ انہیں طیّبین طاہرین کی وراثت پاتا ہے اور تمام علوم و معارف میں ان کا وارث ٹھہرتا ہے۔ اس جگہ ایک نہایت روشن کشف یاد آیا اور وہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ