آیا ہو۔ لیکنؔ درحقیقت مظہر اس امر کا نبی متبوع ہے جس کی متابعت سے ظہور کاملہ کے ساتھ اُس سے قریب ہوجاتی ہے کہ الوہیت کے تجلیات اس کے نفسانی جذبات پر ایسے غالب آجاتے ہیں اور ایسے اس کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں جو اس کو اپنے نفسانی جذبات سے بلکہ ہریک سے جو نفسانی جذبات کا تابع ہو مغائرت کلی اور ہریک مخالف اپنے مغلوب اور لاجواب ہونے کا آپ گواہ ہوجائے۔ غرض خداوند کریم نے جو اسباب اور وسائل اشاعت دین کے اور دلائل اَور براہین اتمام حجت کے محض اپنے فضل اور کرم سے اس عاجز کو عطا فرمائے ہیں وہ امم سابقہ میں سے آج تک کسی کو عطا نہیں فرمائے اور جو کچھ اس بارے میں توفیقات غیبیہ اس عاجز کو دیؔ گئی ہیں وہ ان میں سے کسی کو نہیں دی گئیں۔ وذالک فضل اللّٰہ یؤتیہ من یشآء۔ سو چونکہ خداوند کریم نے اسباب خاصہ سے اس عاجز کو مخصوص کیا ہے اور ایسے زمانہ میں اس خاکسار کو پیدا کیا ہے کہ جو اتمام خدمت تبلیغ کے لئے نہایت ہی معین و مددگار ہے۔ اس لئے اس نے اپنے تفضّلات و عنایات سے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ روز ازل سے یہی قرار یافتہ ہے کہ آیت کریمہ متذکرہ بالا اور نیز آیت وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ۱؂ کا روحانی طور پر مصداق یہ عاجز ہے اور خدائے تعالیٰ ان دلائل و براہین کو اور ان سب باتوں کو کہ جو اس عاجز نے مخالفوں کے لئے لکھی ہیں خود مخالفوں تک پہنچا دے گا اور ان کا عاجز اور لاجواب اور مغلوب ہونا دنیا میں ظاہر کرکے مفہوم آیت متذکرہ بالا کا پورا کردے گا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذلک۔ پھر بعد اس کے جو الہام ہے وہ یہ ہے۔ صل علٰی محمد و اٰل محمد سید ولد ادم و خاتم النبیین۔ اور درود بھیج محمد اور آل محمد پر جو سردار ہے آدم کے بیٹوں کا اور خاتم الانبیاء ہے صلی اللہ علیہ وسلم یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ سب مراتب اور تفضّلات اور عنایات اسی کے طفیل سے ہیں اور اسی سے محبت کرنے کا یہ صلہ ہے۔ سبحان اللہ اس سرور کائنات کے حضرت احدیّت میں کیا ہی اعلیٰ مراتب ہیں اور کس قسم کا قرب ہے کہ اس کا محب خدا کا محبوب بن جاتا ہے اور اُس کا