اور باطلہ اور ناقصہ کا استیصال منظور تھا اس جہت سے انکے ہاتھ صرف قصے ہی قصے رہ گئے اور برکت حقّانیّت اور تائیداتِ سماویہ کا نام و نشان نہ رہا۔ ان کی کتابیں ایسے نشان بتلا رہی ہیں جن کے ثبوت کا ایک ذراؔ نشان اُن کے ہاتھ میں نہیں صرف گزشتہ قصوں کا حوالہ دیا جاتا ہے مگر قرآنِ شریف ایسے نشان پیش کرتا ہے جن کو ہریک شخص دیکھ سکتا ہے۔
مغالطات کے بیچ میں پڑگئے یا کسی نے سکر اور بے خودی کی حالت میں جو ایک قسم کا جنون ہے اس فرق کو نظر سے ساقط کردیا کہ جو خدا کی روح اور انسان کی روح میں باعتبار طاقتوں اور قوتوں اور کمالات اور تقدسات کے ہے ورنہ ظاہر ہے
کتاب کی تاثیرات عظیمہ اور برکات عمیمہ پر دلالت کرتی ہے۔ پھر بعد اس کے فرمایا ولو کان الایمان معلقا بالثریا لنالہ۔ اگر ایمان ثریا سے لٹکتا ہوتا یعنی زمین سے بالکل اٹھ جاتا تب بھی شخض مقدم الذکر اس کو پالیتا۔ یکاد زیتہ یضیء ولو ؔ لم تمسسہ نار۔ عنقریب ہے کہ اس کا تیل خودبخود روشن ہوجائے اگرچہ آگ اس کو چھو بھی نہ جائے۔ ام یقولون نحن جمیع منتصر سیھزم الجمع و یولون الدبر۔ وان یروا ایۃ یعرضوا ویقولوا سحر مستمر واستیقنتھا انفسم وقالوا لات حین مناص فبما رحمۃ من اللہ لنت علیھم ولو کنت فظا غلیظ القلب لا نفضوا من حولک۔ ولو ان قرانا سیرت بہ الجبال۔ کیا کہتے ہیں کہ ہم ایک قوی جماعت ہیں جو جواب دینے پر قادر ہیں۔ عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ جائے گی اور پیٹھ پھیر لیں گے اور جب یہ لوگ کوئی نشان دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ایک معمولی اور قدیمی سحر ہے حالانکہ ان کے دل ان نشانوں پر یقین کرگئے ہیں اور دلوں میں انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اب گریز کی جگہ نہیں اور یہ خدا کی رحمت ہے کہ تُو ان پر نرم ہوا اور اگر تُو سخت دل ہوتا تو یہ لوگ تیرے نزدیک نہ آتے اور تجھ سے الگ ہوجاتے۔ اگرچہ قرآنی معجزات ایسے دیکھتے جن سے پہاڑ جنبش میں آجاتے۔ یہ آیات ان بعض لوگوں کے حق میں بطور الہام القا ہوئیں جن کا ایسا ہی خیال اور حال تھا۔ اور شاید ایسے ہی اور لوگ بھی نکل آویں جو اس قسم کی باتیں کریں اور