قرآن شریف کی حقّانیّت معلوم کرنے کے لئےؔ اب بھی وہی معجزات قرآنیہ اور وہی تاثیرات فرقانیہ اور وہی تائیدات غیبی اور وہی آیات لاریبی موجود ہیں جو اُس زمانہ میں موجود تھی خدا نے اس دین قویم کو قائم رکھنا تھا اِس لئے اِس کی سب برکات اور سب آیات قائم رکھیں اور عیسائیوں اور یہودیوں اور ہندوؤں کے ادیان ُ محرفہ وید انتیوں کے باطل خیال کی تائید ہو۔ کیونکہ انہوں نے خالق اور مخلوق میں جو ابدی امتیاز ہے شناخت نہیں کیا۔ اور اپنے کشوفِ مشتبہ کے دھوکہ سے کہ جو سلوک ناتمام کیؔ حالت میں اکثر پیش آجاتے ہیں یا جو سودا انگیز ریاضتوں کا ایک نتیجہ ہوتا ہے سخت الجنۃ۔ نفخت فیک من لدنی روح الصدق۔ اے آدم اے مریم اے احمد تو اور جو شخص تیرا تابع اور رفیق ہے جنت میں یعنی نجات حقیقی ؔ کے وسائل میں داخل ہوجاؤ۔ میں نے اپنی طرف سے سچائی کی روح تجھ میں پھونک دی ہے۔ اس آیت میں بھی روحانی آدم کا وجہ تسمیہ بیان کیا گیا یعنی جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش بلا توسط اسباب ہے ایسا ہی روحانی آدم میں بلاتوسط اسباب ظاہر یہ نفخ روح ہوتا ہے اور یہ نفخ روح حقیقی طور پر انبیاء علیھم السلام سے خاص ہے اور پھر بطور تبیعت اور وراثت کے بعض افرادِ خاصہ امت محمدیہ کو یہ نعمت عطا کی جاتی ہے اور ان کلمات میں بھی جس قدر پیشگوئیاں ہیں وہ ظاہر ہیں۔ پھر بعد اس کے فرمایا۔ نصرت وقالوا لات حین مناص۔ تو مدد دیا گیا۔ اور انہوں نے کہا کہ اب کوئی گریز کی جگہ نہیں۔ ان الذین کفروا وَ صدوا عن سبیل اللّٰہ رد علیھم رجل من فارس شکر اللّٰہ سعیہ۔ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور خدا تعالیٰ کی راہ کے مزاحم ہوئے ان کا ایک مرد فارسی الاصل نے رد لکھا ہے۔ اس کی سعی کا خدا شاکر ہے۔ کتاب الولی ذوالفقار علی۔ ولی کی کتاب علی کی تلوار کی طرح ہے یعنی مخالف کو نیست و نابود کرنے والی ہے۔ اور جیسے علی کی تلوار نے بڑے بڑے خطرناک معرکوں میں نمایاں کار دکھلائے تھے ایسا ہی یہ بھی دکھلائے گی۔ اور یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ جو