تمھیدؔ ہشتم۔ جو امر خارق عادت کسی ولی سے صادر ہوتا ہے۔ وہ حقیقت میں اس متبوع کا معجزہ ہے جس کی وہ اُمّت ہے اور یہ بدیہی اور کہ ؔ قادر مطلق کہ جس کے علم قدیم سے ایک ذرّہ مخفی نہیں اور جس کی طرف کوئی نقصان اور خسران عاید نہیں ہوسکتا اور جوہریک قسم کے جہل اور آلودگی اور ناتوانی اور غم اور حزن اور درد اور رنج اور گرفتاری سے پاک ہے وہ کیوں کر اس چیز کا عین ہوسکتا ہے کہ جو بدرجۂ یقین کامل پہنچ کر پھر منکر رہیں۔ پھر بعد اس کے فرمایا۔ انا انزلناہ قریبا من القادیان۔ و بالحق انزلناہ و بالحق نزل۔ صدق اللہ و رسولہ وکان امر اللہ مفعولا۔ یعنی ہم نے ان نشانوں اور عجائبات کو اور نیز اس الہام پر ازمعارف و حقائق کو قادیان کے قریب اتارا ہے اور ضرورتِ حقّہ کے ساتھ اتارا ہے اور بضرورتِ حقہ اترا ہے۔ خدا اور اس کے رسول نے خبر دی تھی کہ جو اپنے وقت پر پوری ہوئی اور جو کچھ خدا نے چاہا تھا وہ ہونا ہی تھا۔ یہ آخری فقرات اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص کے ظہور کے لئے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حدیث متذکرہ بالا میں اشارہ فرماچکے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنے کلام مقدس میں اشارہ فرما چکا ہے چنانچہ وہ اشارہ حصہ سوم کے الہامات میں درج ہوچکا ہے۔ اور فرقانی اشارہ اس آیت میں ہے۔ 3۔۱؂ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح کے حق میں پیشگوئی ہے۔ اور جس غلبۂ کاملہ دین اسلام کا وعدہ دیا گیا ہے وہ غلبہ مسیح کے ذریعہ سے ظہور میں آئے گا۔ اور جب حضرت مسیح علیہ السلام دوبارہ اسؔ دنیا میں تشریف لائیں گے تو ان کے ہاتھ سے دین اسلام جمیع آفاق اور اقطار میں پھیل جائے گا لیکن اس عاجز پر ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ خاکسار اپنی غربت اور انکسار اور توکل اور ایثار اور آیات اور انوار کے رو سے مسیح کی پہلی زندگی کا نمونہ ہے اور اس عاجز کی فطرت اور مسیح کی فطرت باہم نہایت ہی متشابہ واقع ہوئی ہے گویا ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے یا ایک ہی درخت کے دو پھل ہیں اور بحدی اتحاد ہے کہ نظر کشفی میں نہایت ہی باریک امتیاز ہے اور نیز ظاہری طور پر