اور اُن پر یقین کا دروازہ ایسا کھل گیا تھا کہ ان کے حق میں خدا نے فرمایا 3 ۱ یعنی اس نبی کو ایسا شناخت کرتے ہیں کہ جیسا اپنے بیٹوں کو شناخت کرتے ہیں اور حقیقت میں یہ دروازہ یقین اور معرفت کا کچھ ان کے لئے ہی نہیں کھلا بلکہ اس زمانہ میں بھی سب کے لئے کھلا ہے کیونکہ
فنااتم کے آئینہ کے ذریعہ سے جس نے سالک میں اور اس کی نفسانی خواہشوں میں ؔ غایت درجہ کا بُعد ڈال دیا ہے انعکاس ربّانی ذات اور صفات کا نہایت صفائی سے دکھائی دے۔ اس تقریر میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس میں وجودیوں یا
کی خلعتِ خاص عطا کی جاتی ہے اور قرب کے اعلیٰ مقام تک صعود کرتا ہے اور پھر خلقت کی طرف اس کو لایا جاتا ہے۔ پس اس کا وہ صعود اور نزول دو قوس کی صورت میں ظاہر ہوجاتا ہے اور نفس جامع التعلقین انسان کامل کا ان دونوں قوسوں میں قاب قوسین کی طرح ہوتا ہے اور قاب عرب کے محاورہ میں کمان کے چلہ پر اطلاق پاتا ہے۔ پس آیت کے بطور تحت اللفظ یہ معنے ہوئے کہ نزدیک ہوا یعنی خدا سے ، پھر اترا یعنی خلقت پر پس اپنے اس صعود اور نزول کی وجہ سے دو قوسوں کے لئے ایک ہی وتر ہوگیا۔ اور چونکہ اس کا رُو بخلق ہونا چشمہ صافیہ تخلّق باخلاق اللہ ہے اس لئے اس کی توجہ بمخلوق توجہ بخالق کے عین ہے یا یوں سمجھو کہ چونکہ مالک حقیقی اپنی غایت شفقت علی العباد کی وجہ سے اس قدر بندوں کی طرف رجوع رکھتا ہے کہ گویا وہ بندوں کے پاس ہی خیمہ زن ہے۔ پس جبکہ سالک سیر الی اللہ کرتا کرتا اپنی کمال سیر کو پہنچ گیا تو جہاں خدا تھا وہیں اس کو لَوٹ کر آنا پڑا۔ پس اس وجہ سے کمال دنوّ یعنی قرب تام اس کی تدلی یعنی ہبوط کا موجب ہوگیا۔ یحی الدین و یقیم الشریعۃ۔ زندہ کرے گا دین کو اور قائم کرے گا شریعت کو۔ یا اٰدم اسکن انت و زوجک الجنۃ۔ یا مریم اسکن انت و زوجک الجنۃ۔ یا احمد اسکن انت و زوجک