بلاشبہ ان پر یہ بات بکمال درجہ ثابت ہوچکی تھی کہ جو کچھ آنحضرت کے مونہہ سے نکلتا ہے وہ کسی اُمی اور ناخواندہ کا کام نہیں اور نہ دس بیس آدمیوں کا کام ہے تب ہی تو وہ اپنی جہالت سے 3۔ ۱؂ کہتے تھے اور جو اُن میں سے دانا اور واقعی اہل علم تھے وہ بخوبی معلوم کرچکے تھے کہ قرآن انسانی طاقتوں سے باہر ہے کہ ؔ سالک اس قدر خدا اور اس کے ارادوں اور خواہشوں سے اتحاد اور محبت اور یک جہتی پیدا کرلے کہ اس کا تمام اپنا عین و اثر جاتا رہے۔ اور ذات اور صفات الٰہیہ بلا شائبہ ظلمت اور بلا توہم حالیّت و محلیّت اس کے وجود آئینہ صفت میں منعکس ہوجائیں۔ اور واقعہ ہے جو دونوں سے تعلق کامل رکھتا ہے۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ وصول کامل کے لئے دنوّ اور تدلّی دونوں لازم ہیں دنوّ اس قرب تام کا نام ہے کہ جب کامل تزکیہ کے ذریعہ سے انسان کامل سیر الی اللہ سے سیر فی اللہ کے ساتھ متحقّق ہوجائے اور اپنی ہستی ناچیز سے بالکل ناپدید ہوکر اور غرق دریائے بیچون و بیچگون ہوکر ایک جدید ہستی پیدا کرے جس میں بیگانگی اور دوئی اور جہل اور نادانی نہیں ہے اور صبغتہ اللہ کے پاک رنگ سے کامل رنگینی میسر ہے اور تدلّی انسان کی اس حالت کا نام ہے کہ جب وہ تخلّق باخلاق اللہ کے بعد ربّانی شفقتوں اور رحمتوں سے رنگین ہوکر خدا کے بندوں کی طرف اصلاح اور فائدہ رسانی کے لئے رجوع کرے۔ پس جاننا چاہئے کہ اس جگہ ایک ہی دل میں ایک ہی حالت اور نیّت کے ساتھ دو قسم کا رجوع پایا گیا۔ ایک خدائے تعالیٰ کی طرف جو وجود قدیم ہے اور ایک اس کے بندوں کی طرف جو وجود محدث ہے۔ اور دونوں قسم کا وجود یعنی قدیم اور حادث ایک دائرہ کی طرح ہے جس کی طرف اعلیٰ وجوب اور طرف اسفل امکان ہے۔ اب اس دائرہ کے درمیان میں انسان کامل بوجہ دنوّ اور تدلی کی دونوں طرف سے اتصال محکم کرکے یوں مثالی طور پر صورت پیدا کرلیتا ہے۔ جیسے ایک وترؔ دائرہ کے دو قوسوں میں ہوتا ہے یعنی حق اور خلق میں واسطہ ٹھہر جاتا ہے پہلے اس کو دنوّ اور قربِ الٰہی