ابؔ خلاصہ اس تقریر کا یہ ہے کہ اگر آنحضرت اُمّی نہ ہوتے تو مخالفین اسلام بالخصوص یہودی اور عیسائی جن کو علاوہ اعتقادی مخالفت کے یہ بھی حسد اور بغض دامنگیر تھا کہ بنی اسرائیل میں سے رسول نہیں آیا بلکہ ان کے بھائیوں میں سے جو بنی اسماعیل ہیں آیا وہ کیونکر ایک صریح امر خلاف واقعہ پاکر خاموش رہتے وہؔ ہے کہ جو جو ابتدائی درجہ میں نفس کشی کے لئے تکالیف اٹھائی جاتی ہیں اور حالت معتادہ کو چھوڑ کر طرح طرح کے دکھ سہنے پڑتے ہیں وہ سب آلام صورت انعام میں ظاہر ہوجائیں اور بجائے مشقّت کے لذّت اور بجائے رنج کے راحت اور بجائے تنگی کے انشراح اور بشاشت نمودار ہو۔ اور ترقیات کا اعلیٰ درجہ وہ ہے انعکاس ہوکر ایک دوسرا کمال جو تدلّی ہے عارف کے لئے پیش آئے گا۔ اور تدلّی سے مراد وہ ہبوط اور نزول ہے کہ جب انسان تخلق باخلاق اللہ حاصل کرکے اس ذات رحمان و رحیم کی طرح شفقتًا علی العباد عالم خلق کی طرف رجوع کرے۔ اور چونکہ کمالات دنو کے کمالات تدلی سے لازم ملزوم ہیں۔ پس تدلی اسی قدر ہوگی جس قدر دنو ہے۔ اور دنو کی کمالیت اس میں ہے کہ اسماء اور صفات الٰہی کے عکوس کا سالک کے قلب میں ظہور ہو۔ اور محبوب حقیقی بے شائبہ ظلیت اور بے تواہم حالیت و محلیّت اپنے تمام صفات کاملہ کے ساتھ اس میں ظہور فرمائے اور یہی استخلاف کی حقیقت اور روح اللہ کی نفخ کی ماہیت ہے اور یہی تخلق باخلاق اللہ کی اصل بنیاد ہے۔ اور جبکہ تدلی کی حقیقت کو تخلق باخلاق اللہ لازم ہو اور کمالیت فی التخلّق اس بات کو چاہتی ہے کہ شفقت علی العباد اور ان کے لئے بمقام نصیحت کھڑے ہونا اور ان کی بھلائی کے لئے بدل و جان مصروف ہوجانا اس حد ؔ تک پہنچ جائے جس پر زیادہ متصور نہیں اس لئے واصل تام کو مجمع الاضداد ہونا پڑا کہ وہ کامل طور پر رو بخدا بھی ہو اور پھر کامل طور پر رو بخلق بھی پس وہ ان دونوں قوسوں الوہیت و انسانیت میں ایک وتر کی طرح