کیا توؔ نے دیکھا نہیں کہ یہ عیسائی اور یہودی جنہوں نے انجیل اور تورات کوکچھ ادھورا سا پڑھ لیا ہے ایمان ان کا دیوتوں اور بُتوں پر ہے اور مشرکوں کو کہتے ہیں کہ ان کا مذہب جو بُت پرستی ہے وہ بہت اچھا ہے اور توحید کا مذہب جو مسلمان رکھتے ہیں یہ کچھ نہیں یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے *** کی ہے اور جس پر خدا *** کرے اس کے لئے کوئی مددگار نہیں۔ اُنؔ تمام نفسانی خواہشوں سے خالصاً للہ دست کش ہوجائے کہ جو اس میں اور اس کے مولیٰ کریم میں جدائی ڈالتے ہیں اور اس کے مونہہ کو خدا کی طرف سے پھیر کر اپنی نفسانی لذّات اور جذبات اور عادات اور خیالات اور ارادات اور نیز مخلوق کی طرف پھیرتے ہیں اور اُن کے خوفوں اور امیدوں میں گرفتار کرتے ہیں اور ترقیات کا اوسط درجہ اور قرب کسی حرکت مکانی کا نام نہیں بلکہ اس وقت انسان کو مقرب الٰہی بولا جاتا ہے کہ جب وہ ارادہ اور نفس اور خلق اور تمام اضداد اور اغیار سے بکلّی الگ ہوکر طاعت اور محبت الٰہی میں سراپا محو ہوجاوے اور ہریک ماسوا اللہ سے پوری دوری حاصل کرلیوے اور محبت الٰہی کے دریا میں ایسا ڈوبے کہ کچھ اثر وجود اور انانیّت کا باقی نہ رہے۔ اور جب تک اپنی ہستی کے لوث سے مبرّا نہیں اور بقا باللہ کے پیرایہ سے متحلی نہیں تب تک اس قرب کی لیاقت نہیں رکھتا۔ اور بقا باللہ کا مرتبہ تب حاصل ہوتا ہے کہ جب خدا کی محبت ہی انسان کی غذا ہوجائے اور ایسی حالت ہوجائے کہ بغیر اس کی یاد کے جی ہی نہیں سکتا اور اس کے غیر کا دلؔ میں سمانا موت کی طرح دکھائی دے اور صریح مشہود ہو کہ وہ اسی کے ساتھ جیتا ہے اور ایسا خدا کی طرف کھینچا جاوے جو دل اس کا ہر وقت یاد الٰہی میں مستغرق اور اس کے درد سے دردمند رہے۔ اور ماسوا سے اس قدر نفرت پیدا ہوجائے کہ گویا غیر اللہ سے اس کی عداوت ذاتی ہے جن کی طرف میل کرنے سے بالطبع دکھ اٹھاتا ہے۔ جب یہ حالت متحقق ہوگی تو دل جو مورد انوار الٰہی ہے خوب صاف ہوگا اور اسماء اور صفات الٰہی کا اُس میں