پھر جب ان بدبختوں پر اپنے تمام خیالات کا جھوٹ ہونا کھل گیا اور کوئی بات بنتی نظر نہ آئی تو آخرکار کمال بے حیائی سے کمینہ لوگوں کی طرح اس بات پر آگئے کہ ہر طرح پر اس تعلیم کو شائع ہونے سے روکنا چاہئے جیسا اس کا ذکر قرآن شریف میں فرمایا ہے:۔
ی کافروں نے یہ کہا کہ اس قرآن کو مت سنو۔ اور جب تمہارے سامنے پڑھا جاوے توتم شور ڈال دیاکرو۔ تا شاید اسی طرح غالب آجاؤ۔ اور بعضوں نے عیسائیوں اور یہودیوں میں سے یہ کہا کہ یوں کرو کہ اول صبح کے وقت جاکر قرآن پر ایمان لے آؤ۔ پھر شام کو اپنا ہی دین اختیار کرلو۔ تاشاید اس طور سے لوگ شک میں پڑجائیں اوردینِ اسلام کوچھوڑ دیں۔
پانچواںؔ لطیفہ سورۃ فاتحہ میں یہ ہے کہ وہ اس اتم اور اکمل تعلیم پر مشتمل ہے کہ جو طالب حق کے لئے ضروری ہے۔ اور جو ترقیات قربت اور معرفت کے لئے کامل دستور العمل ہے۔ کیونکہ ترقیات قُربت کا شروع اس نقطہ سیر سے ہے کہ جب سالک اپنے نفس پر ایک موت قبول کرکے اور سختی اور آزار کشی کو روا رکھ کر
سلسلۂ ارشاد اور ہدایت کا قائم ہوکر روحانی پیدائش کی بنیاد ڈالی جائے گویا وہ روحانی زندگی کے رو سے حق کے طالبوں کا باپ ہے۔ اور یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جس میں روحانی سلسلہ کے قائم ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ اس سلسلہ کا نام و نشان نہیں۔ پھر بعد اس کے اس روحانی آدم کا روحانی مرتبہ بیان فرمایا اور کہا۔ 33۔۳ جب یہ آیت شریفہ جو قرآن شریف کی آیت ہے الہام ہوئی تو اس کے معنے کی تشخیص اور تعیین میں تامّل تھا۔ اور اسی تامّل میں کچھ خفیف سی خواب آگئی اور اس خواب میں اس کے معنے حل کئے گئے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ دنوّ سے مراد قربِ الٰہی ہے