یعنیؔ قرآن ہریک قسم کے امور غیبیہ پر مشتمل ہے اور اس قدر بتلانا جنات کا کام نہیں۔ ان کو کہہ دے کہ اگر تمام جن متفق ہوجائیں اور ساتھ ہی بنی آدم بھی اتفاق کرلیں اور سب مل کر یہ چاہیں کہ مثل اس قرآن کے کوئی اور قرآن بنادیں تو ان کے لئے ہرگز ممکن نہیں ہوگا اگرچہ ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔
اُن لوگوں کا طریق و خلق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا انعام و فضل ہوا تا طالبین حق کے دل جمعیت پکڑیں سو یہ مقصد صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ میں آگیا۔ دسواں ۱۰مقصد قرآن شریف کا ان لوگوں کا خلق و طریق بیان کرنا ہے جن پر خدا کا غضب ہوا۔ یا جو راستہ بھول کر انواع اقسام کی بدعتوں میں پڑگئے۔ تا حق کے طالب ان کی راہوں سے ڈریں۔ سو یہ مقصد غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْن میں بطور اجمال آگیا ہے یہ مقاصد عشرہ ہیں جو قرآن شریف میں مندرج ہیں جو تمام صداقتوں کا اصل الاصول ہیں۔ سو یہ تمام مقاصد سورۂ فاتحہ میں بطور اجمال آگئے۔
بات پوری ہوجائے گی تو کفّار اس خطاب کے لائق ٹھہریں گے کہ یہ وہی بات ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے۔ اردت ان ؔ استخلف فخلقت اٰدم انی جاعل فی الارض۔ یعنی میں نے اپنی طرف سے خلیفہ کرنے کا ارادہ کیا۔ سو میں نے آدم کو پیدا کیا۔ میں زمین پر کرنے والا ہوں یہ اختصاری کلمہ ہے یعنی اس کو قائم کرنے والا ہوں۔ اس جگہ خلیفہ کے لفظ سے ایسا شخص مراد ہے کہ جو ارشاد اور ہدایت کے لئے بین اللہ و بین الخلق واسطہ ہو۔ خلافت ظاہری کہ جو سلطنت اور حکمرانی پر اطلاق پاتی ہے مراد نہیں ہے اور نہ وہ بجز قریش کے کسی دوسرے کے لئے خدا کی طرف سے شریعت اسلام میں مسلم ہوسکتی ہے بلکہ یہ محض روحانی مراتب اور روحانی نیابت کا ذکر ہے اور آدم کے لفظ سے بھی وہ آدم جو ابوالبشر ہے مرادؔ نہیں بلکہ ایسا شخص مراد ہے جس سے