اور پھر جب دیکھا کہ قرآن شریف میں صرف قصے ہی نہیں بلکہ بڑے بڑے حقائق ہیں تو پھر یہ دوسری رائے ظاہر کی 3۔ ۱ سورۃ الفرقان الجزو نمبر ۱۸۔ یعنی ایک بڑی جماعت نے متفق ہوکر قرآن شریف کو تالیف کیا ہے ایک آدمی کا کام نہیں۔ پھر جب قرآن شریف میں ان کو یہ جواب دیا گیا کہ اگر قرآن کو کسی جماعت علماء فضلاء اور شعرا نے اکٹھے ہوکر بنایا ہے تو تم بھی کسی ایسی جماعت سے مدد لے کر قرآن کی نظیر بنا کر دکھلاؤ تا تمہارا سچا ہونا ثابت ہو تو پھر لاجواب ہوکر اس رائے کو بھی جانے دیا اور ایک تیسری رائے ظاہر کی اور وہ یہ کہ قرآن کو جِنّات کی مدد سے بنایا ہے یہ آدمی کا کام نہیں پھر خدا نے اس کا جواب بھی ایسا دیا کہ جس کے سامنے وہ چون و چرا کرنے سے عاجز ہوگئے جیسا فرمایا ہے۔
لطف اور نصرت اور ثبات علی الطاعت اور عصمت عن العصیان اور حصول جمیع اسباب خیر اور صلاحیت دنیا و دین اسی کی طرف اسے قرار دینا اور ان تمام امور میں اسی سے مدد چاہنے کے لئے تاکید کرنا سو یہ مقصد اِیَّاکَ نَسْتَعِیْن میں بطور اجمال آگیا۔ آٹھواں مقصد قرآن ؔ شریف کا صراط مستقیم کے دقائق کو بیان کرنا ہے اور پھر اس کی طلب کے لئے تاکید کرنا کہ دعا اور تضرّع سے اس کو طلب کریں سو یہ مقصد اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْممیں بطور اجمال کے آگیا۔ نواں مقصد قرآن شریف کا
من الطیب۔ اور خدا ایسا نہیں ہے جو تجھے چھوڑ دے جب تک وہ خبیث اور طیب میں صریح فرق نہ کرلے۔3۔ اور خدا اپنے امر پر غالب ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ اذا جاء نصر اللہ والفتح و تمت کلمۃ ربک ھذا الذی کنتم بہ تستعجلون۔ جب مدد اور فتح الٰہی آئے گی اور تیرے رب کی