ممکن تھا کہ وہ لوگ قرآن شریف سے اپنے مذہب کی آپ ہی مذمّت کرواتے۔ اور اپنی کتابوں کا آپ ہی ردّ لکھاتے اور اپنے مذہب کی بیخ کنی کے آپ ہی موجب بن جاتے پس یہ سست اور نادرست باتیں اس لئے دنیا پرستوں کو بکنی پڑیں کہ اُن کو عاقلانہ طور پر قدم مارنے کا کسی طرف راستہ نظر نہیں آتا تھا اور آفتاب صداقت کا ایسی پرزور روشنی سے اپنی کرنیں چاروں طرف چھوڑ رہا تھا کہ وہ اس سے چمگادڑ کی طرح چُھپتے پھرتے تھے اور کسی ایک بات پر ان کو ہرگز ثبات و قیام نہ تھا بلکہ تعصّب اور شدّت عناد نے ان کو سودائیوں اور پاگلوں کی طرح بنا رکھا تھا۔ پہلے تو قرآن کے قصوں کو سن کر جن میں بنی اسرائیل کے پیغمبروں کا ذکر تھا اس وہم میں پڑے کہ شاید ایک شخص اہل کتاب میں سے پوشیدہ طور پر یہ قصے سکھاتا ہوگا جیسا اُن کا یہ مقولہ قرآن شریف میںؔ درج ہے۔ 3۔ ۱؂سورۃ النحل الجزو نمبر ۱۴ ۔ خدا کا وہ فیضان ثابت کرنا ہے جو محنت اور کوشش پر مترتب ہوتا ہے۔ سو یہ مقصد لفظ رَحِیْم میں آگیا۔ پانچواں مقصد قرآن شریف کا عالم معاد کی حقیقت بیان کرنا ہے۔ سو یہ مقصد مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْن میں آگیا۔ چھٹا مقصد قرآنؔ شریف کا اخلاص اور عبودیت اور تزکیہ نفس عن غیر اللہ اور علاج امراض روحانی اور اصلاح اخلاق ردیہ اور توحید فی العبادت کا بیان کرنا ہے۔ سو یہ مقصد اِیَّاکَ نَعْبُدُ میں بطور اجمال آگیا۔ ساتواں مقصد قرآن شریف کا ہریک کام میں فاعل حقیقی خدا کو ٹھہرانا اور تمام توفیق اور نام نہیں رہے گا۔ اور خدا تجھ سے ابتدا شرف اور مجد کا کرے گا۔ نصرت بالرعب واحییت بالصدق ایھا الصدیق۔ نصرت وقالوا لات حین مناص۔ تو رعب کے ساتھ مدد کیا گیا اور صدق کے ساتھ زندہ کیا گیا۔ اے صدیق تو مدد کیا گیا۔ اور مخالفوں نے کہا ؔ کہ اب گریز کی جگہ نہیں یعنی امداد الٰہی اس حد تک پہنچ جائے گی کہ مخالفوں کے دل ٹوٹ جائیں گے اور ان کے دلوں پر یاس مستولی ہوجائے گی اور حق آشکارا ہوجائے گا۔ وما کان اللہ لیترکک حتی یمیز الخبیث