عیسائی یا یہودی عالم بائیبل نے یہ قصے بتلا دیئے ہوں گے۔ پس ظاہر ہے اگر آنحضرت کا اُمّی ہونا ان کے دلوں میں بہ یقین کامل متمکن نہ ہوتا تو اسی بات کے ثابت کرنے کے لئے نہایت کوشش کرتے کہ آنحضرت اُمّی نہیں ہیں فلاں مکتب یا مدرسہ میں انہوں نے تعلیم پائی ہے۔ واہیات باتیں کرنا جن سے اُن کی حماقت ثابت ہوتی تھی کیا ضرور تھا۔ کیونکہ یہ الزام لگانا کہ بعض عالم یہودی اور عیسائی درپردہ آنحضرت کے رفیق اور معاون ہیں بدیہی البطلان تھا۔ اس وجہ سے کہ قرآن تو جابجا اہلِ کتاب کی وحی کو ناقص اور اُن کی کتابوں کو محرّف اور مبدّل اور ان کے عقائد کو فاسد اور باطل اور خود ان کو بشرطیکہ بے ایمان مریں ملعون اور جہنمی بتلاتا ہے۔ اورؔ اُن کے اصولِ مصنوعہ کو دلائل قویّہ سے توڑتا ہے تو پھر کس طرح جمیع عبادات ہے۔ دوسرا مقصد قرآن شریف کا یہ ہے کہ وہ خدا کا صانع کامل ہونا اور خالق العالمین ہونا ظاہر کرتا ہے اور عالم کے ابتدا کا حال بیان فرماتا ہے اور جو دائرہ عالم میں داخلؔ ہوچکا اس کو مخلوق ٹھہراتا ہے اور ان امور کے جو لوگ مخالف ہیں انکا کذب ثابت کرتا ہے۔ سو یہ مقصد رَبُّ الْعٰلَمِیْن میں بطور اجمال آگیا۔ تیسرا مقصد قرآن شریف کا خدا کا فیضان بلا استحقاق ثابت کرنا اور اُس کی رحمتِ عامہ کا بیان کرنا ہے۔ سو یہ مقصد لفظ رحمان میں بطور اجمال آگیا۔ چوتھا مقصد قرآن شریف کا کیا انسان پر یعنی تجھ پر وہ وقت نہیں گزرا کہ تیرا دنیا میں کچھ بھی ذکر و تذکرہ نہ تھا۔ یعنی تجھ کو کوئی نہیں جانتا تھا کہ تو کون ہے اور کیا چیز ہے اور کسی شمار و حساب میں نہ تھا۔ یعنیؔ کچھ بھی نہ تھا۔ یہ گزشتہ تلطّفات و احسانات کا حوالہ ہے تا محسن حقیقی کے آئندہ فضلوں کے لئے ایک نمونہ ٹھہرے۔ سبحان اللّٰہ تبارک اللّٰہ تبارک و تعالٰی زاد مجدک۔ ینقطع ابائک و یبدء منک۔ سب پاکیاں خدا کے لئے ہیں جو نہایت برکت والا اور عالی ذات ہے اس نے تیرے مجد کو زیادہ کیا۔ تیرے آباء کا نام اور ذکر منقطع ہوجائے گا۔ یعنی بطور مستقل ان کا