میں بودوباش رہی اور نہ مجالسِ علمیہ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اورؔ دوسری طرف وہ قرآن شریف میں صرف پہلی کتابوں کے قصے نہیں بلکہ صدہا باریک صداقتیں دیکھتے تھے جو پہلی کتابوں کی مکمل اور متمم تھیں تو آنحضرت کی حالت اُمیّت کو سوچنے سے اور پھر اس تاریکی کے زمانہ میں ان کمالات علمیہ کو دیکھنے سے نیز انوار ظاہری و باطنی کے مشاہدہ سے نبوت آنحضرت ؐ کی ان کو اظہر من الشّمس معلوم ہوتی تھی اور ظاہر ہے کہ اگر ان مسیحی فاضلوں کو آنحضرت کے اُمّی اور مؤیّد من اللہ ہونے پر یقین کامل نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ وہ ایک ایسے دین سے جس کی حمایت میں ایک بڑی سلطنت قیصر روم کی قائم تھی اور جو نہ صرف ایشیا میں بلکہ بعض حصوں یورپ میں بھی پھیل چکا تھا اور بوجہ اپنی مشرکانہ تعلیم کے دنیا پرستوں کو عزیز اور پیارا معلوم ہوتا تھا صرف شک اور شبہ کی حالت میں الگ ہوکر ایسے مذہب کو
کا لکھنا نہایت موزون اور مناسب ہے اور رحمان کے مقابلہ پر اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ لکھا۔ کیونکہ بندہ کے لئے اعانت الٰہی جو توفیق عبادت اور ہریک اس کے مطلوب میں ہوتیؔ ہے جس پر اس کی دنیا اور آخرت کی صلاحیت موقوف ہے یہ اس کے کسی عمل کا پاداش نہیں بلکہ محض صفت رحمانیت کا اثر ہے۔ پس استعانت کو صفت رحمانیت سے بشدّت مناسبت ہے۔ اور رحیم کے مقابلہ پر اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ لکھا کیونکہ دعا ایک مجاہدہ اور کوشش ہے اور کوششوں پر جو ثمرہ مُترتّب ہوتا ہے وہ صفت رحیمیت کا اثر ہے۔ اور مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کے مقابلہ پر صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ
بورکت یا احمد وکان ما بارک اللہ فیک حقًّا فیک۔ اے احمد تو مبارک کیا گیا اور خدا نے جو ؔ تجھ میں برکت رکھی ہے وہ حقانی طور پر رکھی ہے۔ شانک عجیب و اجرک قریب۔ تیری شان عجیب ہے اور تیرا بدلہ نزدیک ہے۔ انی راض منک۔ انی رافعک الی الارض والسماء معک کما ھو معی۔ میں تجھ سے راضی ہوں میں تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ زمین اور آسمان تیرے