قبول کرلیتے جو بباعث تعلیم توحید کے تمام مشرکین کو ُ برا معلوم ہوتا تھا اور اُس کے قبول کرنے والے ہر وقت چاروں طرف سے معرض ہلاکت اورؔ بلا میں تھے پس جس چیز نے ان کے دلوں کو اسلام کی طرف پھیرا وہ یہی بات تھی جو انہوں نے آنحضرتؐ کو محض اُمّی اور سراپا مؤیّد من اللہ پایا اور قرآن شریف کو بشری طاقتوں سے بالاتر دیکھا اور پہلی کتابوں میں اس آخری نبی کے آنے کے لئے خود بشارتیں پڑھتے تھے سو خدا نے ان کے سینوں کو ایمان لانے کے لئے کھول دیا۔ اور ایسے ایماندار نکلے جو خدا کی راہ میں اپنے خونوں کو بہایا اور جو لوگ عیسائیوں اور یہودیوں اور عربوں میں سے نہایت درجہ کے جاہل اور شریر اور
عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَ لَاالضَّآلِّیْنَلکھا۔ کیونکہ امر مجازات مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ کے متعلق ہے۔ سو ایسا فقرہ جس میں طلب انعام اور عذاب سے بچنے کی درخواست ہے اسی کے نیچے رکھنا موزوں ہے۔
چوتھا لطیفہ یہ ہے کہ سورۃ فاتحہ مجمل طور پر تمام مقاصد قرآن شریف پر مشتمل ہے گویا یہ سورۃ مقاصدؔ قرآنیہ کا ایک ایجاز لطیف ہے۔ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے 3 3۔ ۱ یعنی ہم نے تجھے اے رسول سات آیتیں سورۃ فاتحہ کی عطا کی ہیں جو مجمل طور پر تمام مقاصد قرآنیہ پر مشتمل ہیں اور ان کے مقابلہ پر قرآن عظیم بھی عطا فرمایا ہے جو مفصّل طور پر مقاصد دینیہ کو ظاہر کرتا ہے اور اسی جہت سے اس سورۃ کا نام
ساتھ ہیں جیسے وہ میرے ساتھ ہیں۔ ھو کا ضمیر واحد بتاویل مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ہے اور ان کلمات کا حاصل مطلب تلطّفات اورؔ برکاتِ الٰہیہ ہیں جو حضرت خیر الرسل کی متابعت کی برکت سے ہریک کامل مومن کے شامل حال ہوجاتی ہیں اور حقیقی طور پر مصداق ان سب عنایات کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور دوسرے سب طفیلی ہیں۔ اور اس بات کو ہر جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہریک مدح و ثنا جو کسی مومن کے