جوؔ لوگ عیسائیوں اور یہودیوں میں سے صاحب علم ہیں جب ان پر قرآن پڑھا جاتا ہے تو سجدہ کرتے ہوئے ٹھوڑیوں پر گر پڑتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارا خدا تخلّفِ وعدہ سے پاک ہے ایک دن ہمارے خداوند کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا اور روتے ہوئے مونہہ پر گر پڑتے ہیں اور خدا کا کلام اُن میں فروتنی اور عاجزی کو بڑھاتا ہو۔
پس یہ تو ان لوگوں کا حال تھا جو عیسائیوں اور یہودیوں میں اہل علم اور صاحب انصاف تھے کہ جب وہ ایک طرف آنحضرت کی حالت پر نظر ڈال کر دیکھتے تھے کہ محض اُمّی ہیں کہ تربیت اور تعلیم کا ایک نقطہ بھی نہیں سیکھا اور نہ کسی مہذّب قوم
فصاحت و بلاغت کے بہت مشکل ہوتا ہے اور جو لوگ سخنؔ میں صاحب مذاق ہیں وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے لف و نشر کیسا نازک اور دقیق کام ہے۔ اِس کی تفصیل یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اوّل محامدِ الٰہیہ میں فیوض اربعہ کا ذکر فرمایا کہ وہ رب العالمین۱ ہے۔ رحمان۲ ہے۔ رحیم۳ ہے۔ مالک۴ یوم الدین ہے۔ اور پھر بعد اس کے فقرات تعبد اور استعانت اور دعا اور طلب جزا کو انہیں کے ذیل میں اس لطافت سے لکھا ہے کہ جس فقرہ کو کسی قسم فیض سے نہایت مناسبت تھی اُسی کے نیچے وہ فقرہ درج کیا۔ چنانچہ رَبُّ الْعَالَمِیْن کے مقابلہ پر اِیَّاکَ نَعْبُدُ لکھا۔ کیونکہ ربوبیت سے استحقاق عبادت شروع ہوجاتا ہے پس اسی کے نیچے اور اسی کے محاذات میں اِیَّاکَ نَعْبُدُ
اور تا مخالفوں کو بھی معلوم ہو کہ جس قوم پر خداوند کریم کی نظر عنایت ہوتی ہے اور جو لوگ راہ ؔ راست پر ہوتے ہیں ان سے کیونکر خداوند کریم اپنے مکالمات اور مخاطبات میں بہ مہربانی پیش آتا ہے اور کیونکر ان تفضّلات سے پیش از وقوع اطلاع دیتا ہے جن کو اس نے لطف محض سے اپنے وقتوں پر طیار رکھا ہے اور وہ الہامات یہ ہیں:۔