سبؔ فرقوں میں سے مسلمانوں کی طرف زیادہ تر رغبت کرنے والے عیسائی ہیں کیونکہ ان میں بعض بعض اہلِ علم اور راہب بھی ہیں جو تکبر نہیں کرتے اور جب خدا کے کلام کو جو اُس کے رسول پر نازل ہوا سنتے ہیں تبُ تو دیکھتا ہے کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اس وجہ سے کہ وہ حقّانیّت کلام الٰہی کو پہچان جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدایا ہم ایمان لائے ہم کو اُن لوگوں میں لکھ لے جو تیرے دین کی سچائی کے گواہ ہیں اور کیوں ہم خدا اور خدا کے سچے کلام پر ایمان نہ لاویں۔ حالانکہ ہماری آرزو ہے کہ خدا ہم کو ان بندوں میں داخل کرے جو نیکوکار ہیں۔
تینوں جزوں کو لطیف طور پر بیان کیا۔ ذاتی خوبی بھی بیان کی۔ فوائد بھی بیان کئے اور پھر اس راہ کے چھوڑنے والوں کی ناکامی اور بدحالی بھی بیانؔ فرمائی تا ذاتی خوبی کو سن کر طبائع سلیمہ اُس کی طرف میل کریں اور فوائد پر اطلاع پاکر جو لوگ فوائد کے خواہاں ہیں ان کے دلوں میں شوق پیدا ہو اور ترک کرنے کی خرابیاں معلوم کرکے اس وبال سے ڈریں جو کہ ترک کرنے پر عائد حال ہوگا۔ پس یہ بھی ایک کامل لطیفہ ہے جس کا التزام اس صورت میں کیا گیا۔ پھر تیسرا لطیفہ اس سورۃ میں یہ ہے کہ باوجود التزام فصاحت و بلاغت یہ کمال دکھلایا ہے کہ محامد الٰہیہ کے ذکر کرنے کے بعد جو فقرات دعا وغیرہ کے بارہ میں لکھے ہیں۔ ان کو ایسے عمدہ طور پر بطور لف و نشر مرتب کے بیان کیا ہے جس کا صفائی سے بیان کرنا باوجود رعایت تمام مدارج
مغلوب اور ہلاک کرنے کے لئے تمہارے ساتھ ہے اسی طرح اور بھی بہت ؔ سے فقرات تھے جن میں سے کچھ تو یاد ہیں اور کچھ بھول گئے۔ لیکن سب سے زیادہ عربی زبان میں الہام ہوتا ہے۔ خصوصاً آیاتِ فرقانیہ میں بکثرت اور بتواتر ہوتا ہے۔ چنانچہ کسی قدر عربی الہامات جو بعض عظیم الشان پیشگوئیوں اور احساناتِ الٰہیہ پر مشتمل ہیں ذیل میں معہ ترجمہ لکھے جاتے ہیں تاکہ اگر خدا چاہے تو طالب صادق کو ان سے فائدہ ہو