وہ ؔ لوگ جو ہماری ملاقات سے ناامید ہیں یعنی ہماری طرف سے بکلی علاقہ توڑ چکے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس قرآن کے برخلاف کوئی اور قرآن لا جس کی تعلیم اس کی تعلیم سے مغایر اور منافی ہو یا اسی میں تبدیل کر ان کو جواب دے کہ مجھے یہ قدرت نہیں اور نہ روا ہے کہ میں خدا کے کلام میں اپنی طرف سے کچھ تبدیل کروں۔ میں تو صرف اُس وحی کا تابع ہوں جو میرے پر نازل ہوتی ہے حقیقی کی شہود سے اپنی اور دوسری مخلوق چیزوں کی ہستی کالعدم معلوم ہوتی ہے اس حالت کا نام خدا نے صراط مستقیم رکھا ہے جس کی طلب کے لئے بندہ کو تعلیم فرمایا اور کہا اِھْدِنَا الصِّرَاطَالْمُسْتَقِیْمَ یعنی وہ راستہ فنا اور توحید اور محبت الٰہی کا جو آیاتِ مذکور ۂبالا سے مفہوم ہورہا ہے وہ ہمیں عطا فرما اور اپنے غیر سے بکُلّی منقطع کر۔ خلاصہ یہ کہ خدائے تعالیٰ نے دعا میں جوش پیدا کرنے کے لئے وہ اسباب حقہ انسان کو عطا فرمائے کہ جو اس قدر دلی جوش پیدا کرتے ہیں کہ دعا کرنے والے کو خودی کے عالم سے بے خودی اور نیستی کے عالم میں پہنچا دیتے ہیں۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بات ہرگز نہیں کہ سورۃ فاتحہ دعا کے کئی طریقوں میں سے ہدایت مانگنے کا ایک طریقہ ہے بلکہ جیسا کہ دلائل مذکورۂ بالا سے ثابت ہوچکا ہے درحقیقت صرف یہی ایک طریقہ ہے جس پر جوش دل سے دعا کا صادر ہونا موقوف ہے اور جس پر طبیعت انسانی بمقتضا اپنے فطرتی تقاضا ؔ کے چلنا چاہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسے خدا نے دوسرے امور میں قواعد مقررّہ ٹھہرا رکھے ہیں ایسا ہی دعا کے لئے بھی ایک قاعدہ خاص ہے اور وہ قاعدہ وہی محرّک ہیں جو سورۃ فاتحہ میں لکھے گئے ہیں اور آریہ کو بتلایا گیا جس سے یہ سمجھا گیا تھا کہ کوئی شخص عیسائی یا عیسائیوں کی طرز پر دینِ اسلام کی نسبت کچھ اعتراض چھپوا کر بھیجے گا چنانچہ اُسی روز ایک آریہ کو ڈاک آنے کے وقت ڈاک خانہ میں بھیجا گیا تو وہ چند چھپے ہوئے ورق لایا جس میں عیسائیوں کی طرز پر ایک صاحب خام خیال نے اعتراضات لکھے تھے۔ ایک دفعہ کسی امر میں جو دریافت طلب تھا خواب میں ایک درم نقرہ جو بشکل بادامی تھا اس عاجز کے ہاتھؔ میں دیا