نادانوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ قرآن کی توحید ہمیں پسند نہیں آتی کوئی ایسا قرآن لاؤ جس میں بتوں کی تعظیم اور پرستش کا ذکر ہو یا اسی میں کچھ تبدّل تغیّر کرکے بجائے توحید کے شرک بھر دو تب ہم قبول کرلیں گے اور ایمان لے آئیں گے۔ تو خدا نے ان کے سوال کا جواب اپنے نبی کو وہ تعلیم کیا جو آنحضرت کے واقعات عمری پر نظر کرنے سے پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے:۔ دوسرے اس بات کا تصور کہ انسان بغیر توفیق اور تائید الٰہی کے کسی چیز کو حاصل نہیں کرسکتا۔ اور بلاشبہ یہ دونوں تصور ایسے ہیں کہ جب دعا کرنے کے وقت دل میں جم جاتے ہیں تو یکایک انسان کی حالت کو ایسا تبدیل کردیتے ہیں کہ ایک متکبر ان سے متاثر ہو کر روتا ہوا زمین پر گر پڑتا ہے اور ایک گردن کش سخت دل کے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔ یہیَ کل ہے جس سے ایک غافل مردہ میں جان پڑجاتی ہے۔ انہیں دو باتوں کے تصور سے ہریک دل دعا کرنے کی طرف کھینچا جاتا ہے۔ غرض یہی وہ روحانی وسیلہ ہے جس سے انسان کی روح روبخدا ہوتی ہے اور اپنی کمزوری اور امداد ربّانی پر نظر پڑتی ہے اسی کے ذریعہ سے انسان ایک ایسے عالم بے خودی میں پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی مکدّر ہستی کا نشان باقی نہیں رہتا اور صرف ایک ذات عظمیٰ کا جلال چمکتا ہوا نظر آتا ہے اور وہی ذات رحمتِ کُل اور ہریک ہستی کا ستون اور ہریک درد کا چارہ اور ہریک فیض کا مبدء دکھائی دیتی ہے آخر اس سے ایک صورت فنافی اللہ کیؔ ظہور پذیر ہوجاتی ہے جس کے ظہور سے نہ انسان مخلوق کی طرف مائل رہتا ہے نہ اپنے نفس کی طرف نہ اپنے ارادہ کی طرف اور بالکل خدا کی محبت میں کھویا جاتا ہے اور اُس ہستی کئے گئے اور آخر وہ ایسا ہی آدمی نکلا اور اس کے باطن میں طرح طرح کے خبث پائے گئے۔ ایک دفعہ صبح ؔ کے وقت بہ نظر کشفی چند ورق چھپے ہوئے دکھائے گئے کہ جو ڈاک خانہ سے آئے ہیں اور اخیر پر ان کے لکھا تھا۔ آئی ایم بائی عیسیٰ یعنی میں عیسیٰ کے ساتھ ہوں۔ چنانچہ وہ مضمون کسی انگریزی خوان سے دریافت کرکے دو ہندو