اورؔ اپنے خداوند کی نافرمانی سے ڈرتا ہوں اگر خدا چاہتا تو میں تم کو یہ کلام نہ سناتا اور خدا تم کو اس پر مطلع بھی نہ کرتا پہلے اس سے اتنی عمر یعنی چالیس برس تک تم میں ہی رہتا رہا ہوں پھر کیا تم کو عقل نہیں یعنی کیا تم کو بخوبی معلوم نہیں کہ افترا کرنا میرا کام نہیں اور جھوٹ بولنا میری عادت میں نہیں اور پھر آگے فرمایا کہ اس شخص سے زیادہ تر اور کون ظالم ہوگا جو خدا پر افترا باندھے یا خدا کے کلام کو کہے کہ یہ انسان کا افترا ہے بلاشبہ مجرم نجات نہیں پائیں گے۔ ممکن نہیں کہ جب تک وہ دونوں محرک کسی کے خیال میں نہ ہوں تب تک اس کی دعا میں جوش پیدا ہوسکے۔ سو طبعی راستہ دعا مانگنے کا وہی ہے جو سورۃ فاتحہ میں ذکر ہوچکا ہے۔ پس سورہ ممدوحہ کے لطائف میں سے یہ ایک نہایت عمدہ لطیفہ ہے کہ دعا کو معہ محرکات اس کے کے بیان کیا ہے فتدبّر۔ پھر ایک دوسرا لطیفہ اس سورۃ میں یہ ہے کہ ہدایت کے قبول کرنے کے لئے پورے پورے اسباب ترغیب بیان فرمائے ہیں کیونکہ ترغیب کامل جو معقول طور پر دی جائے ایک زبردست کشش ہے اور حصر عقلی کے رو سے ترغیب کامل اس ترغیب کا نام ہے جس میں تین جُزیں موجود ہوں۔ ایک یہ کہ جس شے کی طرف ترغیب دینا منظور ہو اس کی ذاتی خوبی بیان کی جائے سو اس خبر کو اس آیت میں بیان فرمایا ہے۔ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ یعنی ہم کو وہ راستہ بتلا جو اپنی ذات میں صفتِ استقامت گیا۔ اس میں دو سطریں تھیں۔ اول سطر میں یہ انگریزی فقرہ لکھا تھا۔ یس آئی ایم ہیپی اور دوسری سطر جو خط فارق ڈال کر نیچے لکھی ہوئی تھی وہ اسی پہلی سطر کا ترجمہ تھا یعنی یہ لکھا تھا کہ ہاں میں خوش ہوں۔ ایک دفعہ کچھ حزن اور غم کے دن آنے والے تھے کہ ایک کاغذ پر بہ نظر کشفی یہ فقرہ انگریزی میں لکھا ہوا دکھایا گیا۔ لائف آف پین یعنی زندگی دکھ کی۔ ایک دفعہ بعض مخالفوں کے بارہ میں جنہوں نے