جن پر کوئی حال ان کا پوشیدہ نہ تھا اور جو ہر وقت اس گھات میں لگے ہوئے تھے کہ کوئی خلاف گوئی ثابت کریں اور اُس کو مُشتہر کردیں۔ جن کا عناد اس درجہ تک پہنچ چکا تھا کہ اگر بس چل سکتا تو کچھ جھوٹ موٹ سے ہی ثبوت بنا کر پیش کردیتے اور اسی جہت سے ان کو ان کی ہریک بدظنی پر ایسا مسکت جواب دیا جاتا تھا کہ وہ ساکتؔ اور لاجواب رہ جاتے تھے مثلاً جب مکہ کے بعض
کہ جو شخص خدا کی عظمت اور رحمت اور قدرت کاملہ کو یاد نہیں رکھتا وہ کسی طرح سے خدا کی طرف رجوع نہیں کرسکتا اور جو شخص اپنی عاجزی اور درماندگی اور مسکینی کا اقراری نہیں اس کی روح اس مولیٰ کریم کی طرف ہرگز جھک نہیں سکتی۔ غرض یہ ایسی صداقت ہے جس کے سمجھنے کے لئے کوئی عمیق فلسفہ درکار نہیں بلکہ جب خدا کی عظمت اور اپنی ذلت اور عاجزی متحقق طور پر دل میں متنقّش ہو تو وہ حالت خاصہ خود انسان کو سمجھا دیتی ہے کہ خالص دعا کرنے کا وہی ذریعہ ہے سچے پرستار خوب سمجھتے ہیں کہ حقیقت میں انہیں دو چیزوں کا تصورؔ دعا کے لئے ضروری ہے یعنی اول اس بات کا تصور کہ خدائے تعالیٰ ہریک قسم کی ربوبیت اور پرورش اور رحمت اور بدلہ دینے پر قادر ہے اور اس کی یہ صفات کاملہ ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں۔
آئی کین ویٹ آئی ول ڈو۔ یعنی میں کرسکتا ہوں جو چاہوں گا۔ پھر بعد اس کے بہت ہی زور سے جس سے بدن کانپ گیا یہ الہامؔ ہوا۔ وی کین ویٹ وی ول ڈو۔ یعنی ہم کرسکتے ہیں۔ جو چاہیں گے اور اس وقت ایک ایسا لہجہ اور تلفظ معلوم ہوا کہ گویا ایک انگریز ہے جو سر پر کھڑا ہوا بول رہا ہے اور باوجود پُر دہشت ہونے کے پھر اس میں ایک لذت تھی جس سے روح کو معنے معلوم کرنے سے پہلے ہی ایک تسلی اور تشفّی ملتی تھی اور یہ انگریزی زبان کا الہام اکثر ہوتا رہا ہے۔ ایک دفعہ ایک طالب العلم انگریزی خوان ملنے کو آیا اس کے روبرو ہی یہ الہام ہوا۔ دس از مائی اینیمی یعنی یہ میرا دشمن ہے اگرچہ معلوم ہوگیا تھا کہ یہ الہام اسی کی نسبت ہے مگر اسی سے یہ معنی بھی دریافت