اور واقعات سے بے خبر اور ناواقف قرار دے سکیں بلکہ وہ تمام لوگ ایسے تھے جن میں آنحضرت نے ابتداء عمر سے نشوونما پایا تھا اور ایک حصۂ کلاں عمرؔ اپنی کا ان کی مخالطت اور مصاحبت میں بسر کیا تھا پس اگر فی الواقعہ جناب ممدوح اُمّی نہ ہوتے تو ممکن نہ تھا کہ اپنے اُمّی ہونے کا ان لوگوں کے سامنے نام بھی لے سکتے تذلل کی تعلیم دی اور فرمایا اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے مبدء تمام فیوض ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں یعنی ہم عاجز ہیں آپ سے کچھ بھی نہیں کرسکتے جب تک تیری توفیق اور تائید شامل حال نہ ہو پس خدائے تعالیٰ نے دعا میں جوش دلانے کے لئے دو محرّک بیان فرمائے ایک اپنی عظمت اور رحمتِ شاملہ دوسرے بندوں کا عاجز اور ذلیل ہونا۔ اب جاننا چاہئے کہ یہی دو محرک ہیں جن کا دعا کے وقتؔ خیال میں لانا دعا کرنے والوں کے لئے نہایت ضروری ہے جو لوگ دعا کی کیفیت سے کسی قدر چاشنی حاصل رکھتے ہیں انہیں خوب معلوم ہے کہ بغیر پیش ہونے ان دونوں محرکوں کے دعا ہوہی نہیں سکتی اور بجز ان کے آتش شوق الٰہی دعا میں اپنے شعلوں کو بلند نہیں کرتے یہ بات نہایت ظاہر ہے زبان خدا کے ہاتھ میں ایک آلہ ہوتا ہے جس طرح اور جس طرف چاہتا ہے اس آلہ کو یعنی زبان کو پھیرتا ہے اور اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ الفاظ زور کے ساتھ اور ایک جلدی سے نکلتے آتے ہیں اور کبھی ایسا بھیؔ ہوتا ہے کہ جیسے کوئی لطف اور ناز سے قدم رکھتا ہے اور ایک قدم پر ٹھہر کر پھر دوسرا قدم اٹھاتا ہے اور چلنے میں اپنی خوش وضع دکھلاتا ہے اور ان دونوں اندازوں کے اختیار کرنے میں حکمت یہ ہے کہ تا رباّنی الہام کو نفسانی اور شیطانی خیالات سے امتیاز کلی حاصل رہے اور خداوندِ مطلق کا الہام اپنی جلالی اور جمالی برکت سے فی الفور شناخت کیا جائے۔ ایک دفعہ کی حالت یاد آئی ہے کہ انگریزی میں اول یہ الہام ہوا۔ آئی لو یو یعنی میں تم سے محبت رکھتا ہوں۔ پھر یہ الہام ہوا۔ آئی ایم ود یو یعنی میں تمہارے ساتھ ہوں پھر الہام ہوا۔ آئی شیل ہیلپ یو یعنی میں تمہاری مدد کروں گا۔ پھر الہام ہوا