انؔ تمام آیات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمّی ہونا بکمال وضاحت ثابت ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ اگر آنحضرت فی الحقیقت اُمّی اور ناخواندہ نہ ہوتے۔ تو بہت سے لوگ اس دعویٰ اُمیّت کی تکذیب کرنے والے پیدا ہوجاتے کیونکہ آنحضرت نے کسی ایسے ملک میں یہ دعویٰ نہیں کیا تھا کہ جس ملک کے لوگوں کو آنحضرت کے حالات جو اللہ تعالیٰ کی نسبت بیان فرمایا گیا ہے کہ وہی ایک ذات ہے کہ جو تمام محامدِ کاملہ سے متصف اور تمام خوبیوں کی جامع ہے اور وہی ایک ذات ہے جو تمام عالموں کی رب اور تمام رحمتوں کا چشمہ اور سب کو ان کے عملوں کا بدلہ دینے والی ہے پس ان صفات کے بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ نے بخوبی ظاہر فرمادیا کہ سبؔ قدرت اسی کے ہاتھ میں ہے اور ہریک فیض اسی کی طرف سے ہے اور اپنی اس قدر عظمت بیان کی کہ دنیا اور آخرت کے کاموں کا قاضی الحاجات اور ہریک چیز کا علت العلل اور ہریک فیض کا مبدء اپنی ذات کو ٹھہرایا جس میں یہ بھی اشارہ فرما دیا ہے کہ اس کی ذات کے بغیر اور اس کی رحمت کے بدوں کسی زندہ کی زندگی اور آرام اور راحت ممکن نہیں اور پھر بندہ کو پھر چند روز کے بعد خبر ملی کہ مدعی ایک ناگہانی موت سے مرگیا اور اس طرح پر شخص ماخوذ نے خلاصی پائی۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ ماسوا اس کے کبھی کبھی دوسری زبان میں الہام ہونا جس سے یہ خاکسار ناآشنا محض ہے اور پھر وہ الہام کسی پیشگوئی پر مشتمل ہونا عجائباتِ غریبہ میں سے ہے جو قادر مطلق کی وسیع قدرتوں پر دلالت کرتا ہے۔ اگرچہ ؔ بیگانہ زبان کے تمام الفاظ محفوظ نہیں رہتے اور اُن کے تلفظ میں بعض وقت بباعث سرعت ورود الہام اور ناآشنائی لہجہ و زبان کچھ فرق آجاتا ہے مگر اکثر صاف صاف اور غیر ثقیل فقرات میں کم فرق آتا ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ جلدی جلدی القا ہونے کی وجہ سے بعض الفاظ یادداشت سے باہر رہ جاتے ہیں لیکن جب کسی فقرہ کا لقا مکررسہ کرر ہو تو پھر وہ الفاظ اچھی طرح سے یاد رہتے ہیں۔ الہام کے وقت میں قادر مطلق اپنے اُس تصرف بحث سے کام کرتا ہے جس میں اسبابِ اندرونی یا بیرونی کی کچھ آمیزش نہیں ہوتی اُس وقت