اورؔ اس سے پہلے تو کسی کتاب کو نہیں پڑھتا تھا اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتا تھا تا باطل پرستوں کو شک کرنے کی کوئی وجہ بھی ہوتی بلکہ وہ آیات بینات ہیں جو اہل علم لوگوں کے سینوں میں ہیں اور ان سے انکار وہی لوگ کرتے ہیں جو ظالم ہیں۔ کامل اور قادر اور جامع صفات کاملہ خیال کرکے اس کی رحمتوں اور کرموں کو ابتدا سے انتہا تک اپنے وجود اور بقا کے لئے ضروری دیکھنا اور تمام فیوض کا مبدء اسی کو خیال کرنا۔ دوسرے اپنے تئیں اور اپنے تمام ہم جنسوں کو عاجزؔ اور مفلس اور خدا کی مدد کا محتاج یقین کرنا یہی دو امر ہیں جن سے دعاؤں میں جوش پیدا ہوتا ہے اور جو جوش دلانے کے لئے کامل ذریعہ ہیں وجہ یہ کہ انسان کی دعا میں تب ہی جوش پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اپنے تئیں سراسر ضعیف اور ناتوان اور مدد الٰہی کا محتاج دیکھتا ہے اور خدا کی نسبت نہایت قوی اعتقاد سے یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ بغایت درجہ کامل القدرت اور رب العالمین اور رحمان اور رحیم اور مالک امر مجازات ہے اور جو کچھ انسانی حاجتیں ہیں سب کا پورا کرنا اسی کے ہاتھ میں ہے سو سورۃ فاتحہ کے ابتدا میں لکھا ہے یہ خواب بھی بدستور روزنامہ مذکورہ بالا میں اسی ہندو کے ہاتھ سے لکھائی گئی اور کئی آریوں کو اطلاع دی گئی۔ پھر تھوڑے دنوں کے بعد حیدرآباد سے خط آگیا اور نواب صاحب موصوف نے سو روپیہ بھیجا۔فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔ ازانجملہ ایک یہ ہے کہ ایک دوست نے بڑی مشکل کے وقت لکھا کہ اس کا ایک عزیز کسی سنگین مقدمہ میں ماخوذ ہے اور کوئی صورت نجاؔ ت کی نظر نہیں آتی اور کوئی سبیل رہائی کی دکھائی نہیں دیتی۔ سو اس دوست نے یہ پُردرد ماجرا لکھ کر دعا کے لئے درخواست کی۔ چونکہ اس کی بھلائی مقدر تھی اور تقدیر معلق تھی اس لئے اسی رات وقت صافی میسر آگیا جو ایک مدت تک میسر نہیں آیا تھا دعا کی گئی اور وقت صافی قبولیت کی امید دیتا تھا چنانچہ قبولیت کے آثار سے ایک آریہ کو اطلاع دی گئی۔