اورؔ اسی طرح ہم نے اپنے امر سے تیری طرف ایک روح نازل کی ہے تجھے معلوم نہ تھا کہ کتاب اور ایمان کسے کہتے ہیں پر ہم نے اس کو ایک نور بنایا ہے جس کو ہم چاہتے ہیں بذریعہ اس کے ہدایت دیتے ہیں اور بہ تحقیق سیدھے راستہ کی طرف تو ہدایت دیتا ہے۔
دفتر بن جائے گا صرف چند لطیفہ بطور نمونہ بیان کئے جاتے ہیں۔ اول یہ لطیفہ ہے کہ خدائے تعالیٰ نے اس سورۃ فاتحہ میں دعا کرنے کا ایسا طریقہ حسنہ بتلایا ہے جس سے خوب تر طریقہ پیدا ہونا ممکن نہیں اور جس میں وہ تمام امور جمعؔ ہیں جو دعا میں دلی جوش پیدا کرنے کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ قبولیت دعا کے لئے ضرور ہے کہ اُس میں ایک جوش ہو کیونکہ جس دعا میں جوش نہ ہو وہ صرف لفظی بڑبڑ ہے حقیقی دعا نہیں مگر یہ بھی ظاہر ہے کہ دعا میں جوش پیدا ہونا ہریک وقت انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ انسان کے لئے اشد ضرورت ہے کہ دعا کرنے کے وقت جو امور دلی جوش کے محرّک ہیں وہ اس کے خیال میں حاضر ہوں اور یہ بات ہریک عاقل پر روشن ہے کہ دلی جوش پیدا کرنے والی صرف دو ہی چیزیں ہیں ایک خدا کو
کو بھی خبر دی گئی۔ اور ابھی پانچ روز نہیں گزرے تھے جو پینتالیس روپیہ کا منی آرڈر جہلم سے آگیا اور جب حساب کیا گیا تو ٹھیک ٹھیک اسی دن منی آرڈر روانہ ہوا تھا جس دن خداوند عالم الغیب نے اس کے روانہ ہونے کی خبر دی تھی۔ اور یہ پیشگوئی بھی اسی طور پر ظہور میں آئی جس سے بہ تمام تر انکشاف مخالفینؔ پر اس کی صداقت کھل گئی اور اس کے قبول کرنے سے کچھ چارہ نہ رہا کیونکہ ان کو اپنی ذاتی واقفیت سے بخوبی معلوم تھا کہ اس روپیہ کا اس مہینہ میں جہلم سے روانہ ہونا بے نشان محض تھا جس سے پہلے کوئی اطلاعی خط نہیں آیا تھا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔
ازانجملہ ایک یہ ہے کہ کچھ عرصہ ہوا ہے کہ خواب میں دیکھا تھا کہ حیدرآباد سے نواب اقبال الدولہ صاحب کی طرف سے خط آیا ہے اور اُس میں کسی قدر روپیہ دینے کا وعدہ