خداؔ کی طرف سے تم سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ وہ خدا جو بلا شرکت الغیری آسمان اور زمین کا مالک ہے جس کے سوا اور کوئی خدا اور قابل پرستش نہیں زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے پس اس خدا پر اور اس کے رسول پر جو نبی اُمّی ہے ایمان لاؤ۔ وہ نبی جو اللہ اور اس کے کلموں پر ایمان لاتا ہے اور تم اس کی پیروی کرو تاتم ہدایت پاؤ۔ یعنی جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ہم ان کو بالضرور اپنی راہیں دکھلا دیا کرتےؔ ہیں۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ یہ دس صداقتیں جو سورۂ فاتحہ میں درج ہیں کس قدر عالی اور بے نظیر صداقتیں ہیں جن کے دریافت کرنے سے ہمارے تمام مخالفین قاصر رہے اور پھر دیکھنا چاہئے کہ کس ایجاز اور لطافت سے اقل قلیل عبارت میں ان کو خدائے تعالیٰ نے بھر دیا ہے اور پھر اس طرف خیال کرنا چاہئے کہ علاوہ ان سچائیوں کے اور اس کمال ایجاز کے دوسرے کیا کیا لطائف ہیں جو اس سور ۂمبارکہ میں بھرے ہوئے ہیں اگر ہم اس جگہ ان سب لطائف کو بیان کریں تو یہ مضمون ایک ازانجملہ ایک یہ ہے کہ ایک دفعہ اپریل ۱۸۸۳ ؁ء میں صبح کے وقت بیداری ہی میں جہلم سے روپیہ روانہ ہونے کی اطلاع دی گئی اور اس بات سے اس جگہ آریوں کو جن میں سے بعض خود جاکر ڈاک خانہ میں خبر لیتے تھے بخوبی اطلاع تھی کہ اس روپیہ کے روانہ ہونے کے بارہ میں جہلم سے کوئی خط نہیں آیا تھا کیونکہ یہ انتظام اس عاجز نے پہلے سے کررکھا تھا کہ جو کچھ ڈاک خانہ سے خط وغیرہ آتا تھا اس کو خود بعض آریا ڈاک خانہ سے لےؔ آتے تھے اور ہر روز ہریک بات سے بخوبی مطلع رہتے تھے۔ اور خود اب تک ڈاک خانہ کا ڈاک منشی بھی ایک ہندو ہی ہے۔ غرض جب یہ الہام ہوا تو ان دنوں میں ایک پنڈت کا بیٹا شام لال نامی جو ناگری اور فارسی دونوں میں لکھ سکتا تھا بطور روزنامہ نویس کے نوکر رکھا ہوا تھا اور بعض امورِ غیبیہ جو ظاہر ہوتے تھے اس کے ہاتھ سے وہ ناگری اور فارسی خط میں قبل از وقوع لکھائے جاتے تھے اور پھر شام لال مذکور کے اُس پر دستخط کرائے جاتے تھے۔ چنانچہ یہ پیشگوئی بھی بدستور اس سے لکھائی گئی اور اس وقت کئی آریوں