نامعقول بات سے کہ جس کی سچائی سے عقل و شرع انکار کرتی ہے منع کرتا ہے اور پاک چیزوں کو پاک اور پلید چیزوں کو پلید ٹھہراتا ہے اور یہودیوں اور عیسائیوں کے سر پر سے وہ بھاری بوجھ اتارتا ہے جو ان پر پڑی ہوئی تھی اور جن طوقوں میں وہ گرفتار تھے ان سے خلاصی بخشتا ہے۔ سو جو لوگ اس پر ایمان لاویں اور اس کو قوت دیں اور اس کی مدد کریں اور اس نور کی بکلّی متابعت اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل ہوا ہے وہی لوگ نجات یافتہ ہیں۔ لوگوں کو کہہ دے کہ میں
سے اس کے لئے کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ ایسےؔ لوگوں کے بارہ میں قدیم سے اس کا یہی قاعدہ مقرر ہے کہ وہ اپنی تائید سے ان کو محروم رکھتا ہے اور انہیں کو اپنی راہیں دکھلاتا ہے جو ان راہوں کے لئے بدل و جان سعی کرتے ہیں۔ بھلا یہ کیونکر ہوسکے کہ جو شخص نہایت لاپروائی سے سستی کررہا ہے وہ ایسا ہی خدا کے فیض سے مستفیض ہوجائے جیسے وہ شخص کہ جو تمام عقل اور تمام زور اور تمام اخلاص سے اس کو ڈھونڈتا ہے۔ اسی کی طرف ایک دوسرے مقام میں بھی اللہ تعالیٰ نے اشارہ فر یا ہے اور وہ یہ ہے
آئے ہیں اور ایک خط لایا جس میں لکھا تھا کہ یہ 3دس روپیہ ارباب سرور خان نے بھیجے ہیں۔ چونکہ ارباب کے لفظ سے اتحادِ قومی مفہوم ہوتا تھا اس لئے اُن آریوں کو کہا گیا کہ ارباب کے لفظ میں دونوں صاحبوں کی شراکت ہونا پیشگوئی کی صداقت کے لئے کافیؔ ہے مگر بعض نے ان میں سے اِس بات کو قبول نہ کیا اور کہا کہ اتحادِ قومی شے دیگر ہے اور قرابت شے دیگر اور اِس انکار پر بہت ضد کی ناچار اُن کے اصرار پر خط لکھنا پڑا اور وہاں سے یعنی ہُوتی مردان سے کئی روز کے بعد ایک دوست منشی الٰہی بخش نامی نے جو اُن دنوں میں ہوتی مردان میں اکونٹنٹ تھے خط کے جواب میں لکھا کہ ارباب سرور خان ارباب محمد لشکر خان کا بیٹا ہے چنانچہ اُس خط کے آنے پر سب مخالفین لاجواب اور عاجز رہ گئے۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔