ہیں۔ ایک توبیرونی نشانی کہ توریت اور انجیل میں اس کی نسبت پیشین گوئیاں موجود ہیں جن کو وہ آپ بھی اپنی کتابوں میں موجود پاتے ہیں۔ دوسری وہ نشانی کہ خود اُس نبی کی ذات میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ باوجود اُمّی اور ناخواندہ ہونے کے ایسی ہدایت کامل لایا ہے کہ ہر یک قسم کی حقیقی صداقتیں جن کی سچائی کو عقل و شرع شناخت کرتی ہے اور جو صفحۂ دُنیا پر باقی نہیں رہی تھیں لوگوں کی ہدایت کے لئے بیان فرماتا ہے اور اُنکو اسکے بجالانے کیلئے حکم کرتا ہے اور ہریک
لوگوں کو کیوں ہدایت نہیں دیتا۔ اور کوئی یہ اعتراض کرؔ رہا ہے کہ خدا میں صفت اضلال کیونکر پائی جاتی ہے جو لوگ خدائے تعالیٰ کی ہدایت کی نسبت معترض ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہدایت الٰہی اُنہیں کے شامل حال ہوتی ہے کہ جو ہدایت پانے کے لئے کوشش کرتے ہیں اور اُن راہوں پر چلتے ہیں جن راہوں پر چلنا فیضانِ رحمت کے لئے ضروری ہے اور جو لوگ اضلالِ الٰہی کی نسبت معترض ہیں اُن کو یہ خیال نہیں آتا کہ خدائے تعالیٰ اپنے قواعد مقررہ کے ساتھ ہر یک انسان سے مناسبِ حال معاملہ کرتا ہے اور جوشخص سُستی اور تکاسل
معنوں پر محمول معلوم ہوا کہ مہتمم مطبع سفیر ہند کے دل میں بہ یقین کامل یہ مرکوز تھا کہ اِس عاجز کی شہادت جو ٹھیک ٹھیک اور مطابق واقعہ ہو گی بباعث وثاقت اور صداقت اور نیز بااعتبار اور قابل قدر ہونے کی وجہ سے فریق ثانی پر تباہی ڈالے گی اور اِسی نیت سے مہتمم مذکور نے اِس عاجز کو ادائے شہادت کے لئے تکلیف بھی دی اور سمن جاریؔ کرایا اور اتفاق ایسا ہوا کہ جس دن یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور امرتسر جانے کا سفر پیش آیا وہی دن پہلی پیشگوئی کے پورے ہونے کا دن تھا سو وہ پہلی پیشگوئی بھی میاں نور احمد صاحب کے رُو برو پوری ہو گئی یعنی اُسی دن جو دس دن کے بعد کا دن تھا روپیہ آگیا اور امرتسر بھی جانا پڑا۔ فالحمد للّٰہ علٰی ذالک۔
از انجملہ ایک یہ ہے کہ ایک دفعہ فجر کے وقت الہام ہوا کہ آج حاجی ارباب محمد لشکر خان کے قرابتی کا روپیہ آتا ہے۔ یہ پیشگوئی بھی بدستور معمول اسی وقت چند آریوں کو بتلائی گئی اور یہ قرار پایا کہ اُنہیں میں سے ڈاک کے وقت کوئی ڈاکخانہ میں جاوے چنانچہ ایک آریہ ملاوامل نامی اُس وقت ڈاکخانہ میں گیااور یہ خبر لایا کہ ہوتی مردان سے 3دس روپیہ