مَیں جس کوچاہتا ہوں عذاب پہنچاتا ہوں اور میری رحمت نے ہر چیز پر احاطہ کر رکھا ہے سو میں اُن کے لیے جو ہر یک طرح کے شرک اور کفر اور فواحش سے پرہیز کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور نیز اُن کیلئے جو ہماری نشانیوں پر ایمان کامل لاتے ہیں اپنی رحمت لکھوں گا وہ وہی لوگ ہیں جو اُس رسول نبی پر ایمان لاتے ہیں کہ جس میں ہماری قدرت کاملہ کی دو نشانیاں ہو ؔ جاتے ہیں اِسی کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ی اِن کو کہہ دے کہ میرا خدا تمہاری پروا کیا رکھتا ہے اگرتم دعا نہ کرو اور اس کے فیضان کے خواہاں نہ ہو خدا کو تو کسی کی زندگی اور وجود کی حاجت نہیں وہ تو بے نیاز مطلق ہے۔ اور آریہ سماج والے اور عیسائی بھی اِن تینوں صداقتوں میں سے پہلی اور تیسری صداقت سے بے خبر ہیں۔ کوئی اُن میں سے یہ اعتراض کرتا ہے کہ خدائے تعالیٰ سب یہ معنے ہیں کہ مَیں جھگڑنے والا ہوں سو اس مختصر فقرہ سے یقینًا یہ معلوم ہو گیا کہ کسی جھگڑے کے متعلق کوئی خط آنے والا ہے۔ اور ھٰذا شاھد نَزَّاغٌ کہ جو کاتب کی طرف سے دوسرا فقرہ لکھا ہوا دیکھا تھا اس کے یہ معنےؔ کھلے کہ کاتب خط نے کسی مقدمہ کی شہادت کے بارہ میں وہ خط لکھا ہے۔ اُس دن حافظ نور احمد صاحب بباعثِ بارش باران امرتسر جانے سے روکے گئے اور درحقیقت ایک سماوی سبب سے ان کا روکا جانا بھی قبولیتِ دعا کے ایک خبر تھی تا وہ جیسا کہ اُن کے لئے خدائے تعالیٰ سے درخواست کی گئی تھی پیشگوئی کے ظہور کو بچشمِ خود دیکھ لیں۔ غرض اس تمام پیشگوئی کا مضمون اُن کو سنا دیا گیا ۔ شام کو اُن کے رو برو پادری رجب علی صاحب مہتمم و مالک مطبع سفیر ہند کا ایک خط رجسٹری شدہ امرت سر سے آیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ پادری صاحب نے اپنے کاتب پر جو اِسی کتاب کا کاتب ہے عدالتِ خفیفہ میں نالش کی ہے اور اِس عاجز کو ایک واقعہ کا گواہ ٹھہرایا ہے اور ساتھ اُس کے ایک سرکاری سمن بھی آیا اور اس خط کے آنے کے بعد وہ فقرہ الہامی یعنی ھٰذا شاھد نَزّاغ جس کے یہ معنی ہیں کہ یہ گواہ تباہی ڈالنے والا ہے۔ اِن