کوئی تاریخ دان اسلام کا اُس سے بےؔ خبر نہیں لیکن چونکہ یہ امر آئندہ فصلوں کے لئے بہت کارآمد ہے اس لئے ہم کسی قدر آیاتِ قرآنی لکھ کر اُمیّت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ثابت کرتے ہیں سو واضح ہو کہ وہ آیات بہ تفصیل ذیل ہیں:۔ قال اللّٰہ تعالی۔ سورۂ جمعہ الجزو نمبر ۲۸۔۱؂ وہ خدا ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا ان پر وہ اُس کی آیتیں پڑھتا ہے اور اُن کو پاک کرتا ہے اور اُنہیں کتاب اور حکمت سکھاتا ہے اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے صریح گمراہی میں پھنسے ہوئے تھے۔ جہت ؔ سے جو لوگ فیضان رحمت کے طریق کو چھوڑ دیتے ہیں وہ خدا کی طرف سے اسی جہان میں یا دوسرے جہان میں طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں کیونکہ جس کے شامل حال رحمت الٰہی نہیں ہے ضرور ہے کہ انواع اقسام کے عذاب روحانی و بدنی اس کی طرف مونہہ کریں اور چونکہ خدا کے قانون میں یہی انتظام مقرر ہے کہ رحمت خاصہ انہیں کے شامل حال ہوتی ہے کہ جو رحمت کے طریق کو یعنی دعا اور توحید کو اختیار کرتے ہیں۔ اس باعث سے جو لوگ اس طریق کو چھوڑ دیتے ہیں وہ طرح طرح کی آفات میں گرفتار طور پر سمجھایا گیا کچھ اثر مترتب نہ ہوا آخر توجہ الی اللہ تک نوبت پہنچی اور ان کو قبل از ظہور پیشگوئی بتلایا گیا کہ خداوند کریم کی حضرت میں دعا کی جائے گی کچھ تعجبؔ نہیں کہ وہ دعا بہ پایہ اجابت پہنچ کر کوئی ایسی پیشگوئی خداوند کریم ظاہر فرماوے جس کو تم بچشم خود دیکھ جاؤ سو اس رات اس مطلب کے لئے قادر مطلق کی جناب میں دعا کی گئی علی الصباح بہ نظر کشفی ایک خط دکھلایا گیا جو ایک شخص نے ڈاک میں بھیجا ہے اس خط پر انگریزی زبان میں لکھا ہوا ہے آئی ایم کورلر اور عربی میں یہ لکھا ہوا ہے ھذا شاھد نَزّاغ اور یہی الہام حکایتاً عن الکاتب القا کیا گیا اور پھر وہ حالت جاتی رہی چونکہ یہ خاکسار انگریزی زبان سے کچھ واقفیت نہیں رکھتا۔ اس جہت سے پہلے علی الصباح میاں نور احمد صاحب کو اس کشف اور الہام کی اطلاع دے کر اور اس آنے والے خط سے مطلع کرکے پھر اسی وقت ایک انگریزی خوان سے اس انگریزی فقرہ کے معنے دریافت کئے گئے تو معلوم ہوا کہ اُس کے