تمہیدؔ ششم۔ جس طرح محجوب الحقیقت معجزاتِ عقلی معجزات سے برابری نہیں کرسکتے۔ ایسا ہی پیشین گوئیاں اور اخبار ازمنہ گذشتہ جو نجومیوں اور رمّالوں اور کاہنوں اور مؤرّخوں کے طریق ۂبیان سے مشابہ ہیں ان پیشین گوئیوں اور اخبار غیبیہ سے مساوی نہیں ہوسکتیں کہ جو محض اخبار نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ قُدرتِ الوہیّت بھی شامل ہے کیونکہ دنیا میں بجز انبیاء کے اور بھی ایسے لوگ بہت نظر آتے ہیں کہ ایسی ایسی خبریں پیش از وقوع بتلایا کرتے ہیں کہ زلزلے
ہے تو اس کی ایسی مثال ہوتی ہے جیسے کوئی روشنی ؔ کو ناپسند کرکے اور اس سے بغض رکھ کر اپنے گھر کے تمام دروازے بند کردے تا ایسا نہ ہو کہ کسی طرف سے آفتاب کی شعاعیں اس کے گھر کے اندر آجائیں۔ اور جب انسان بباعث جذبات نفسانی یا ننگ و ناموس یا تقلید قوم وغیرہ طرح طرح کی غلطیوں اور آلائشوں میں گرفتار ہو اور سستی اور تکاسل اور لاپروائی سے ان آلائشوں سے پاک ہونے کے لئے کچھ سعی اور کوشش نہ کرے تو اس کی ایسی مثال ہوتی ہے جیسے کوئی اپنے گھر کے دروازوں کو بند پاوے اور
پہنچ جاتا ہے اور ایک باعث ان کشوف اور الہامات کی تحریر پر اور پھر غیر مذہب والوں کی شہادتوں سے اس کے ثابت کرنے پر یہ بھی ہے کہ تا ہمیشہ کے لئے ایک قوی حجت مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے اور جو سفلہ اور ناخداترس اور سیاہ دل آدمی ناحق کا مقابلہ اورؔ مکابرہ مسلمانوں سے کرتے ہیں۔ ان کا مغلوب اور لاجواب ہونا ہمیشہ لوگوں پر ثابت اور آشکار ہوتا رہے اور جو ضلالت اور گمراہی کی ایک زہرناک ہوا آج کل چل رہی ہے اس کی زہر سے زمانہ حال کے طالب حق اور نیز آئندہ کی نسلیں محفوظ رہیں کیونکہ ان الہامات میں ایسی بہت سی باتیں آئیں گی جن کا ظہور آئندہ زمانوں پر موقوف ہے پس جب یہ زمانہ گزر جائے گا اور ایک نئی دنیا نقاب پوشیدگی سے اپنا چہرہ دکھائے گی اور ان باتوں کی صداقت کو جو اس کتاب میں درج ہے بچشم خود دیکھے گی تو اُن کی تقویت ایمان کے لئے یہ پیشین گوئیاں بہت فائدہ دیں گی انشاء اللہ تعالیٰ۔ سو اس وقت جو پیشگوئیاں خداوند کریم کی طرف سے ظاہر ہوئی ہیں