آویں گے وباؔ پڑے گی لڑائیاں ہوں گی قحط پڑے گا ایک قوم دوسری قوم پر چڑھائی کرے گی یہ ہوگا وہ ہوگا اور بارہا کوئی نہ کوئی ان کی خبر بھی سچی نکل آتی ہے پس ان شبہات کے مٹانے کے لئے وہ پیشین گوئیاں اور اخبار غیبیہ زبردست اور کامل مُتصوّر ہوں گے جن کے ساتھ ایسے نشان قُدرتِ الٰہیہ کے ہوں جن میں رمّالوں اور خواب بینوں اور نجومیوں وغیرہ کا شریک ہونا ممتنع اور محال ہو یعنی ان میں خداوند تعالیٰ کے کامل جلال کا جوش اور اُس کی
تمام گھر میں اندھیرا بھرا ہوا دیکھے اور پھرؔ اٹھ کر دروازوں کو نہ کھولے اور ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھا رہے اور دل میں یہ کہے کہ اب اس وقت کون اٹھے اور کون اتنی تکلیف اٹھاوے۔ یہ تینوں مثالیں ان تینوں حالتوں کی ہیں جو انسان کے اپنے ہی فعل یا اپنی ہی سستی سے پیدا ہوجاتی ہیں جن میں سے پہلی حالت کا نام حسب تصریح گذشتہ کے انعام الٰہی اور دوسری حالت کا نام غضب الٰہی اور تیسری حالت کا نام اضلال الٰہی ہے ان تینوں صداقتوں سے بھی ہمارے مخالفین بے خبر ہیں۔ کیونکہ برہمو سماج والوں کو
بعض ان میں سے ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔ ازانجملہ ایک یہ ہے کہ کچھ عرصہ گزرا ہے کہ ایک دفعہ سخت ضرورت روپیہ کی پیش آئی جس ضرورت کا ہمارے اس جگہ کے آریہ ہم نشینوں کو بخوبی علم تھا اور یہ بھی ان کو خوب معلوم تھا کہ بظاہر کوئی ایسی تقریب پیش نہیں ہے کہ جو جائے امید ہوسکے بلکہ اس معاملہ میں ان کو ذاتی طور پر واقفیت تھی جس کی وہ شہادت دے سکتے ہیں۔ پس جبکہ وہ ایسے مشکل اور فقدان اسباب حل ؔ مشکل سے کامل طور پر مطلع تھے اس لئے بلا اختیار دل میں اس خواہش نے جوش مارا کہ مشکل کشائی کے لئے حضرت احدیت میں دعا کی جائے تا اس دعا کی قبولیت سے ایک تو اپنی مشکل حل ہوجائے اور دوسری مخالفین کے لئے تائید الٰہی کا نشان پیدا ہو۔ ایسا نشان کہ اس کی سچائی پر وہ لوگ گواہ ہوجائیں۔ سو اسی دن دعا کی گئی اور خدائے تعالیٰ سے یہ مانگا گیا کہ وہ نشان کے طور پر مالی مدد سے اطلاع بخشے تب یہ الہام ہوا دس دن کے بعد مَیں موج دکھاتا ہوں۔ 33۔ فی شایل مقیاس۔ دن ول یو گو ٹو امرت سر۔ یعنی دس دن کے بعد روپیہ