دھوکاؔ کھا جاتے ہیں اور علوم طبعی کے دقائق عمیقہ اور جسمی تراکیب اور قوتوں کے خواص عجیبہ جو حال کے زمانہ میں نئے تجارب کے ذریعہ سے روزبروز پھیلتے جاتے ہیں یہ جدید باتیں ہیں جن سے جھوٹے معجزے دکھلانے والے نئے نئے مکر اور فریب دکھا سکتے ہیں سو اس تحقیق سے ظاہر ہے کہ جو معجزات بظاہر صورت ان مکروں سے متشابہ ہیں۔ گو وہ سچے بھی ہوں تب بھی محجوب الحقیقت ہیں اور ان کے ثبوت کے بارے میں بڑی بڑی دقتیں ہیں۔
اختیارؔ کرلیتا ہے وہی تخم بویا ہوا اس کا اس کو دیا جاتا ہے۔ جب انسان ہریک طرح کے حجابوں اور کدورتوں اور آلائشوں سے اپنے دل کو پاک کرلیتا ہے اور صحن سینہ اس کے کا مواد ردّیہ ماسوائے اللہ سے بالکل خالی ہوجاتا ہے۔ تو اس کی ایسی مثال ہوتی ہے جیسے کوئی اپنے مکان کا دروازہ جو آفتاب کی طرف ہے کھول دیتا ہے اور سورج کی کرنیں اس کے گھر کے اندر چلی آتی ہیں۔ لیکن جب بندہ ناراستی اور دروغ اور طرح طرح کی آلائشوں کو آپ اختیار کرلیتا ہے اور خدا کو حقیر چیز کی طرح خیال کرکے چھوڑ دیتا
ہوجائے اور نیز ان کشوف اور الہامات کےؔ لکھنے کا یہ بھی ایک باعث ہے کہ تا اس سے مومنوں کی قُوّت ایمانی بڑھے اور ان کے دلوں کو تثبت اور تسلی حاصل ہو اور وہ اس حقیقت حقہ کو بہ یقین کامل سمجھ لیں کہ صراط مستقیم فقط دین اسلام ہے اور اب آسمان کے نیچے فقط ایک ہی نبی اور ایک ہی کتاب ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جو اعلیٰ و افضل سب نبیوں سے اور اتم و اکمل سب رسولوں سے اور خاتم الانبیاء اور خیر الناس ہیں جن کی پیروی سے خدائے تعالیٰ ملتا ہے اور ظلماتی پردے اٹھتے ہیں اور اسی جہان میں سچی نجات کے آثار نمایاں ہوتے ہیں اور قرآن شریف جو سچی اور کامل ہدایتوں اور تاثیروں پر مشتمل ہے جس کے ذریعہ سے حقانی علوم اور معارف حاصل ہوتے ہیں اور بشری آلودگیوں سے دل پاک ہوتا ہے اور انسان جہل اور غفلت اور شبہات کے حجابوں سے نجات پاکر حق الیقین کے مقام تک