دیکھتے نہیں کہ مکارؔ لوگ اسی زمانے میں دنیا کو ہلاک کررہے ہیں۔ کوئی سونا بنا کر دکھلاتا ہے اور کیمیا گری کا دعویٰ کرتا ہے۔ اور کوئی آپ ہی زمین کے نیچے پتھر دبا کر پھر ہندوؤں کے سامنے دیوی نکالتا ہے۔ بعض نے ایسا بھی کیا ہے کہ جمال گوٹہ کا روغن اپنی دوات کی سیاہی میں ملایا اور پھر اس سیاہی سے کسی سادہ لوح کو تعویذ لکھ کر دیا تا دست آنے پر تعویذ کا اثر ظاہر ہو۔ ایسے ہی ہزاروں اور مکر اور فریب ہیں کہ جو اسی زمانہ میں ہورہے ہیں اور بعض مکر ایسے عمیق ہیں جن سے بڑے بڑے دانشمند کدورت سے مصفّٰی اور پاک ہے محبت والوں کے ساتھ محبت رکھتا ہے۔ غضب والوں پر غضب ناک ہے لاپرواہوں کے ساتھ لاپرواہی‘ رُکنے والوں سے رک جاتا ہے اور جھکنے والوں کی طرف جھکتا ہے۔ چاہنے والوں کو چاہتا ہے اور نفرت کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے اور جس طرح آئینہ کے سامنے جو انداز اپنا بناؤ گے وہی انداز آئینہ میں بھی نظر آئے گا۔ ایسا ہی خداوند تعالیٰ کے روبرو جس انداز سے کوئی چلتا ہے وہی انداز خدا کی طرف سے اس کے لئے موجود ہے۔ اور جن لباسوں کو بندہ اپنے لئے آپ ہیں ان پر بکمال انکشاف ظاہر ہوجائے کہ تمام برکات اور انوار اسلام میں محدود اور محصور ہیں اور تا جو اس زمانہ کے ملحد ذرّیت ہے اس پر خدائے تعالیٰ کی حجت قاطعہ اتمام کو پہنچے اور تا ان لوگوں کی فطرتی شیطنت ہریک منصف پر ظاہر ہو کہ جو ظلمت سے دوستی اور نور سے دشمنی رکھ کر حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے مراتب عالیہ سے انکار کرکے اس عالی جناب کی شان کی نسبت پر خبث کلمات مونہہ پر لاتے ہیں اور اس افضل البشر پر ناحق کی تہمتیں لگاتے ہیں اور بباعث غایت درجہ کی کور باطنی کے اور بوجہ نہایت درجہ کی بے ایمانی کے اس بات سے بے خبر ہورہے ہیں کہ دنیا میں وہی ایک کامل انسان آیا ہے جس کا نور آفتاب کی طرح ہمیشہ دنیا پر اپنی شعاعیں ڈالتا رہا ہے اور ہمیشہ ڈالتا رہے گا۔ اور تا ان تحریراتِ حقہ سے اسلام کی شان و شوکت خود مخالفوں کے اقرار سے ظاہر ہوجائے اور تا جو شخص سچی طلب رکھتا ہو اس کے لئے ثبوت کا راستہ کھل جائے اور جو اپنے میں کچھ دماغ رکھتا ہو اس کی دماغ شکنی