اس نادان اور بے خبر کے سامنے مگس مسیح ہونے کا دعویٰ کرے اور اسی حکمت عملی سے مکھیوں کو زندہ کرے اور بظاہر کوئی منتر جنتر پڑھتا رہے جس سے یہ جتلانا منظور ہو کہ گویا وہ اسی منتر کے ذریعہ سے مکھیوں کو زندہ کرتا ہے تو پھر اس سادہ لوح کو اس قدر عقل اور فرصت کہاں ہے کہ تحقیقاتیں کرتا پھرے۔ کیا تم اُس سے مونہہ پھیر لیتے ہیں اور عمداً مخالفت اختیار کرتے ہیں۔ خدا بھی مخالف کی طرح ان سے معاملہ کرتا ہے اور جو لوگ اس کی طلب میں سستی اور لاپروائی کرتے ہیں خدا بھی ان سے لاپروائی کرتا ہے اور ان کو گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے غرض جس طرح آئینہ میں انسان کو وہی شکل نظر آتی ہے کہ جو حقیقت میں شکل رکھتا ہے۔ اسی طرح حضرتِ احدیّت کہؔ جو ہریک قبل از وقوع سن کر پھر اس تائید کو ظہور میں آتے ہوئے بچشم خود دیکھ لے تو کوئی انسان ایسا پاگلؔ اور دیوانہ نہیں کہ پھر بھی ان صحیح پیشگوئیوں اور قوی تائیدوں پر یقین کامل نہ کرسکے۔ ہاں اگر فرط تعصب اور بے ایمانی سے کسی چشم دید ماجرا کا دانستہ انکار کرے تو یہ اَور بات ہے۔ لیکن پھر بھی اس کا دل انکار نہیں کرسکتا اور ہر وقت اس کو ملزم کرتا ہے کہ تو شریر اور سرکش آدمی ہے۔ اب چند کشوف اور الہامات نوواردہ بغرض افادہ طالبین حق لکھے جاتے ہیں اور اسی طرح انشاء اللہ تعالیٰ وقتاً فوقتاً اگر خدا نے چاہا تو جو کچھ مواہب لدنّیہ سے اس احقر عباد پر ظاہر کیا جائے گا وہ اس کتاب میں درج ہوتا رہے گا۔ اِلاَّ مَاشَاء اللہ۔ اور اس سے غرض یہ ہے کہ تا یقین اور معرفت کے سچے طالب فائدہ حاصل کریں اور اپنی حالت میں کشائش پاویں اور ان کے دل پر سے وہ پردے اٹھیں جن سے ان کی ہمت نہایت پست اور ان کے خیالات نہایت ُ پرظلمت ہورہے ہیں اور اس جگہ ہم مکرراً یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ باتیں ایسی نہیں ہیں جن کا ثبوت دینے سے یہ خاکسار عاجز ہو یا جن کے ثبوت میں اپنے ہی ہم مذہبوں کو پیش کیا جائے بلکہ یہ وہ بدیہی الصدق باتیں ہیں جن کی صداقت پر مخالف المذہب لوگ گواہ ہیں اور جن کی سچائی پر وہ لوگ شہادت دے سکتے ہیں جوؔ ہمارے دینی دشمن ہیں اور یہ سب اہتمام اس لئے کیا گیا کہ تا جو لوگ فی الحقیقۃراہ راست کے خواہاں اور جویاں