میں مری ہوئی مکھیاں ہوتی ہیں تو اس صورت میں اگر نمک باریک پیس کر اس مکھی وغیرہ کو اس کے نیچے دبایا جاوے اور پھر اسی قدر خاکستر بھی اس پر ڈالی جاوے تو وہ مکھی زندہ ہوکر اڑ جاتی ہے اور یہ خاصیت مشہور و معروفؔ ہے جس کو اکثر لڑکے بھی جانتے ہیں لیکن اگر کسی سادہ لوح کو اس نسخہ پر اطلاع نہ ہو اور کوئی مکار
ماحصل اور خلاصہ ان تینوں صداقتوں کا یہ ہے کہ جیسے انسان کی خدا کے ساتھ تین حالتیں ہیں ایسا ہی خدا بھی ہریک حالت کے موافق ان کے ساتھ جدا جدا معاملہ کرتا ہے۔ جوؔ لوگ اُس پر راضی ہوتے ہیں اور دلی محبت اور صدق سے اس کے خواہاں ہوجاتے ہیں خدا بھی ان پر راضی ہوجاتا ہے اور اپنی رضامندی کے انوار ان پر نازل کرتا ہے۔ اور جو لوگ
اِس قوم کی عظمت اور بزرگی کے سمجھنے کے لئے جو پیشگوئیوں اور تائیدات کاملہ میں ایک پیوند ہے اُس کو خیال میں رکھنا چاہئے۔ کیونکہ یہ پیوند دوسرے لوگوں کی پیش گوئیوں میں غیر ممکن اور ممتنع ہے اور نیز ان کی پیشگوئیوں میں ایسی فاش غلطیاں نکل آتی ہیں جنؔ سے ہریک ذلت ان کی ظاہر ہوتی ہے مگر خدا کے لوگ جو ہوتے ہیں ان کی روشن پیشگوئیاں ہمیشہ سے سچائی کے نور سے منور ہوتی ہیں ماسوا اس کے وہ مبارک پیشگوئیاں ایک عجیب طور کی عجیب تائید سے لازم ملزوم ہوتی ہیں۔ خدا اپنے بندوں کے کاموں کا آپ متولّی ہوکر ایک حیرت انگیز طور پر ان کی تائید کرتا ہے اور کیا ظاہری طور پر اور کیا باطنی طور پر ہر دم اور ہر لحظہ ان کی مدد میں رہتا ہے اور ان سے اس کی یہی عادت ہے کہ ان کو اپنی تائیدات کی خبریں پیش از وقوع بتلاتا ہے اور ان کے تردّد و تفکّر کے وقت میں اپنے پرنور کلام سے ان کو تسلی اور تشفّی بخشتا ہے اور پھر ایک ایسے عجیب طور پر ان کی مدد کرتا ہے کہ جو خیال اور گمان میں نہیں ہوتی اور جو شخص ان کی صحبت میں رہ کر ان باتوں کو عمیق نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے اور صاف اور پاک نظر سے ان کی عظمت اور بزرگی پر غور کرتا ہے۔ اس کو بلااختیار ایک ضروری اور جازم یقین سے اقرار کرنا پڑتا ہے کہ یہ لوگ مؤیّد من اللہ ہیں اور حضرت احدیت کو ان کی طرف ایک خاص توجہ ہے کیونکہ یہ بات ظاہر ہے کہ جب ایک آدھ دفعہ نہیں بلکہ بیسوں دفعہ کسی انسان کو اتفاق پڑے کہ وہ کسی تائید کا وعدہ