چشم دید باتوں کا ایک ذخیرہ رکھتا ہے اور خودؔ اس قسم کے مکر جیسے سادہ لوحوں اور جاہلوں کے سامنے چل جاتے ہیں اور زیر پردہ رہتے ہیں یہ ایک ایسا امر ہے جو مکّاروں کو صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَؔ عَلَیْھِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ ہم کو ان سالکین کا راستہ بتلا جنہوں نے ایسی راہیں اختیار کیں کہ جن سے اُن پر تیرا انعام وارد ہوا اور ان لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے لاپرواہی سے سیدھی راہ پر قدم مارنے کے لئے کوشش نہ کی اور اس باعث سے پیش از وقوع ان کو بتلا دیتا ہے تا جس کام کا اس نے ارادہ کیا ہے بوجہ احسن انجام کو پہنچ جائے مثلاً وہ خلق اللہ پر یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ فلاں بندہ مؤید من اللہ ہے اور جو کچھ انعامات اور اکرامات وہ پاتا ہے وہ معمولی اور اتفاقی طور پر نہیں بلکہ خاص ارادہ و توجہ الٰہی سے ظہور میں آتے ہیں۔ اسی طرح جو کچھ فتح و نصرت اور اقبال و عزت اس کو ملتی ہے وہ کسی تدبیر اور حیلہ کے ذریعہ سے نہیں بلکہ خدا ہی نے چاہا ہے کہ اس کو غلبہ بخشے اور اپنی تائیدات اس کے شامل حال کرے پس وہ کریم اور رحیم اس مقصود کے ثابت کرنے کی غرض سے ان انعامات اور فتوح سے پہلے بطور پیشگوئی اُن نعمتوں کے عطا کرنے کی بشارت دے دیتا ہے سو ان پیشگوئیوں سے مقصود بالذات اخبار غیبیہ نہیں ہوتیں بلکہ مقصود بالذات یہ ہوتا ہے کہ تا یقینی اور قطعی طور پر ثابت ہوجائے کہ وہ شخص مؤید من اللہ اور ان خاص لوگوں میں سے ہے جن کی تائید کے لئے عنایات حضرت عزّت خاص طور پر تجلی کرتی ہیں۔ اب اس تقریر سے ظاہر ہے کہ اس مؤیّد من اللہ کو منجم وغیرہ سے کچھ بھی نسبت نہیں اور اس کی پیشگوئیاں اصل مقصود نہیں ہے بلکہ اصل مقصود کی شناخت کے لئے علامات و آثار ہیں۔ ماسوا اس کے جن لوگوں کو خدائے تعالیٰ خاص اپنے لئے چن لیتا ہے اور اپنے ہاتھ سے صاف کرتا ہے اور اپنے گروہ میں داخل کرتا ہے ان میں صرف یہی علامت نہیں کہ وہ پوشیدہ چیزیں بتلاتے ہیں تا ان کا حال نجومیوں اور جوتشیوں اور رمّالوں اور کاہنوں کے حال سے مشتبہ ہوجائے اور کچھ مابہ الامتیاز باقی نہ رہے بلکہ ان کے شامل حال ایک عظیم الشان نور ہوتا ہے جس کے مشاہدہ