بھی زیادہ تقویت پکڑتے ہیں ؔ اور بہت سی نظیریں ایسے ہی مکروں اور فریبوں کے اپنی ہی قُوّت حافظہ پیش کرتی ہے بلکہ ہریک انسان ان مکروں کے بارے میں
کیا جائے ممکن نہیں کہ وہ چیز حاصل ہوسکے جس طرح خدا ؔ کے تمام قواعد قدیم سے مقرر اور منضبط ہیں ایسا ہی نجات اور سعادت اخروی کی تحصیل کے لئے ایک خاص طریق مقرر ہے جو مستقیم اور سیدھا ہے۔ سو دعا میں وضع استقامت یہی ہے کہ اسی طریق مستقیم کو خدا سے مانگا جائے۔ آٹھویں اور نویں اور دسویں صداقت جو سورۃ فاتحہ میں درج ہے۔
مبارک کلام سے ایسی تسلی اور تشفی اس کو عطا ہوتی ہے اور خوشنودی حضرت باری تعالیٰ سے مطلع کیا جاتا ہے جس سے بندہ مکروہات دنیا کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑی قوّت پاتا ہے گویا صبر اور استقامت کے پہاڑ اس کو عطا کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح بذریعہ کلام اعلیٰ درجہ کے علوم اور معارف بھی بندہ کو سکھلائے جاتے ہیں اور وہ اسرار خفیہ و دقائق عمیقہ بتلائے جاتے ہیں کہ جو بغیر تعلیم خاص ربانی کے کسی طرح معلوم نہیں ہوسکتے اور اگر کوئی یہ شبہ پیش کرے کہ یہ تمام امور جن کی نسبت بیان کیا گیا ہے کہ قرآن شریف کے کامل اتباع سے حاصل ہوتے ہیں کیونکر اسلام میں ان کا متحقق فی الخارج ہونا بہ پایۂ ثبوت پہنچ سکتا ہے تو اس وہم کا جواب یہ ہے کہ صحبت سے۔ اور اگرچہ ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں لیکن بغیر اندیشہ طول کے پھر مکرر ہریک مخالف پر ظاہر کرتے ہیں کہ فی الحقیقت یہ دولت عظمٰی اسلام میں پائی جاتی ہے کسی دوسرے مذہب میں ہرگز پائی نہیں جاتی اور طالب حق کے لئے اس کے ثبوت کے بارے میں ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں بشرط صحبت و حسن ارادت و تحقق مناسبت اور صبر اور ثبات کے یہ امور ہریک طالب پر بقدر استعداد اور لیاقت ذاتی اُس کے کے کھل سکتے ہیں اور ان امور میں سےؔ جو اخبار غیبیہ ہیں ان کی نسبت یہ شبہ ہرگز نہیں کرنا چاہئے جو اس کام میں رمّال و منجم بھی شریک ہیں کیونکہ یہ قوم کسی خاص فن یا قواعد کے ذریعہ سے اخبار غیبیہ کو نہیں بتلاتی اور نہ غیب دان ہونے کا دعویٰ کرتی ہے بلکہ خداوند کریم جو ان پر مہربان ہے اور ان کے حال پر ایک خاص عنایات و توجہات رکھتا ہے وہ بعض مصالح کے لحاظ سے بعض امور