اُن کی کارسازیوں پر دلیر کرتا ہے۔ عوامؔ النّاس کو جو اکثر چارپایوں کی طرح ہوتے ہیں اس طرف خیال بھی نہیں ہوتا کہ لمبی چوڑی تفتیش کریں اور بات کی تہہ تک
تیری تائید سےؔ محروم رہ کر گمراہ رہے۔ یہ تین صداقتیں ہیں جن کی تفصیل یہ ہے کہ بنی آدم اپنے اقوال اور افعال اور اعمال اور نیات کے رو سے تین قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض سچے دل سے خدا کے طالب ہوتے ہیں اور صدق اور عاجزی سے خدا کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
کے سبب سے طالبؔ صادق بدیہی طور پر ان کو شناخت کرسکتا ہے اور حقیقت میں وہی ایک نور ہے جو ان کے ہریک قول اور فعل اور حال اور قال اور عقل اور فہم اور ظاہر اور باطن پر محیط ہو جاتا ہے اور صدہا شاخیں اس کی نمودار ہوجاتی ہیں اور رنگا رنگ کی صورتوں میں جلوہ فرماتا ہے وہی نور شدائد اور مصائب کے وقتوں میں صبر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور استقامت اور رضا کے پیرایہ میں اپنا چہرہ دکھاتا ہے تب یہ لوگ جو اس نور کے مورد ہیں آفات عظیمہ کے مقابلہ پر جبال راسیات کی طرح دکھائی دیتے ہیں اور جن صدمات کی ادنیٰ َ مس سے ناآشنا لوگ روتے اور چلاتے ہیں بلکہ قریب بمرگ ہوجاتے ہیں ان صدمات کے سخت زور آور حملوں کو یہ لوگ کچھ چیز نہیں سمجھتے اور فی الفور حمایت الٰہی کنار عاطفت میں ان کو کھینچ لیتی ہے اور کوئی خامی اور بے صبری ان سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ محبوب حقیقی کے ایلام کو برنگ انعام دیکھتے ہیں اور بکشادگی سینہ و انشراح خاطر اس کو قبول کرتے ہیں بلکہ اس سے متلذّذ ہوتے ہیں کیونکہ طاقتوں اور قوتوں اور صبروں کے پہاڑ ان کی طرف رواں کئے جاتے ہیں اور محبت الٰہیہ کی پرجوش موجیں غیر کی یادداشت سے ان کو روک لیتی ہیں پس ان سے ایک ایسی برداشت ظہور میں آتی ہے کہ جو خارق عادت ہے اور جو کسی بشر سے بلاتائید الٰہی ممکن نہیں۔ اور ایسا ہی وہ نور حاجات کے وقتوں میں قناعت کی صورت میں ان پر جلوہ گر ہوتا ہے سو دنیا کی خواہشوں سے ایک عجیب طور کی برودت ان کے دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے کہ بدبودار چیز کی طرح دنیا کو سمجھتے ہیں اور یہی دنیوی لذات جن کے حظوظ پر دنیا دار لوگ فریفتہ ہیں و بشوق تمام ان کے جویاں اور ان کے زوال سے سخت ہراساں ہیں یہ اُن کی نظر میں بغایت درجہ ناچیز ہوجاتے ہیں اور تمام سرور اپنا