اٹھ نہیں سکتے اورجس قدر غور کروؔ اُسی قدر داروگیر بڑھتی ہے اورمسیحی جماعت کیلئے کوئی راستہَ مخلصی کانظر نہیں آتاکیونکہ دنیا کی موجودہ حالت کودیکھ کریہ وساوس اور
کہ جو سیدھا منزل مقصودؔ تک پہنچتا ہے اور بے راہیوں کو چھوڑ دے اور یہ بات نہایت بدیہی ہے کہ ہر شے کے حصول کے لئے خدا نے اپنے قانون قدرت میں صرف ایک ہی راستہ ایسا رکھا ہے جس کو سیدھا کہنا چاہئے اور جب تک ٹھیک ٹھیک وہی راستہ اختیار نہ
فکر کے مرتبہ کے آگے ایک مرتبہ بداہت اور شہود کا باقی ہے یعنی جو امور نظری اور فکری طور پر معلوم ہوتے ہیں وہ ممکن ہیں کہ کسی اور ذریعہ سے بدیہی اور مشہود طور پر معلوم ہوں سو یہ مرتبہ بداہت کا عند العقل ممکن الوجود ہے اور گو برہمو سماج والے اس مرتبہ کے وجود فی الخارج سے انکار ہی کریں پر اس بات سے انہیں انکار نہیں کہ وہ مرتبہ اگر خارج میں پایا جاوے تو بلاشبہ اعلیٰ و اکمل ہے اور جو نظر اور فکر میں خفا یا باقی رہ جاتے ہیں ان کا ظہور اور بروز اسی مرتبہ پر موقوف ہے اور خود اس بات کو کون نہیں سمجھ سکتا کہ ایک امر کا بدیہی طور پر کھل جانا نظری طور سے اعلیٰ اور اکمل ہے مثلاً اگرچہ مصنوعات کو دیکھ کر دانا اور سلیم الطبع انسان کا اس طرف خیال آسکتا ہے کہ ان چیزوں کا کوئی صانع ہوگا مگر نہایت بدیہی اور روشن طریق معرفت الٰہی کا جو اس کے وجود پر بڑی ہی مضبوط دلیل ہے یہ ہے کہ اس کے بندوں کو الہام ملتا ہے اور قبل اس کے جو حقائقِ اشیاء کا انجام کھلے اُن پر کھولا جاتا ہے اور وہ اپنے معروضات میں حضرت احدیت سے جوابات پاتے ہیں اور ان سے مکالمات اورؔ مخاطبات ہوتے ہیں اور بہ نظر کشفی ان کو عالمِ ثانی کے واقعات دکھلائے جاتے ہیں اور جزا سزا کی حقیقت پر مطلع کیا جاتا ہے اور دوسرے کئی طور کے اسرار اخروی ان پر کھولے جاتے ہیں اور کچھ شک نہیں کہ یہ تمام امور علم الیقین کو اتم اور اکمل مرتبہ تک پہنچاتے ہیں اور نظری ہونے کے عمیق نشیب سے بداہت کے بلند مینار تک لے جاتے ہیں بالخصوص مکالمات اور مخاطبات حضرت احدیت ان سب اقسام سے اعلیٰ ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ سے صرف اخبار غیبیہ ہی معلوم نہیں ہوتے بلکہ عاجز بندہ پر جو جو مولیٰ کریم کی عنایتیں ہیں ان سے بھی اطلاع دی جاتی ہے اور ایک لذیذ اور