مخالف کے روبرو کارگر نہیںؔ اور بلاریب اس حوض عجیب الصفات کے وجود پر خیال کرنے سے مسیح کی حالت پر بہت سے اعتراضات عائد ہوتے ہیں جو کسی طرح
پُر ہوکر مرتبہ وصال الٰہی کا ؔ جس میں اس کی سعادت تامہ ہے پالیوے یہی ایک دعا ہے۔ جس کی انسان کو سخت حاجت ہے اور جس پر اس کی ساری سعادت موقوف ہے سو اس کے حصول کا سیدھا راستہ یہی ہے کہ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ کہے کیونکہ انسان کے لئے ہریک مطلب کے پانے کا یہی ایک طریق ہے کہ جن راہوں پر چلنے سے وہ مطلب حاصل ہوتا ہے ان راہوں پر مضبوطی سے قدم مارے اور وہی راستہ اختیار کرے
دلوں پر ایسا محیط ہوجاتا ہے کہ ہزارہا طور کی نیستی ان پر وارد ہوجاتی ہے اور شرک خفی کے ہریک رگ و ریشہ سے بکلی پاک اور منزہ ہوجاتے ہیں اور منجملہ ان عطیات کے ایک یہ ہے کہ اُن کی معرفت اور خداشناسی بذریعہ کشوف صادقہ و علوم لدنیہ و الہامات صریحہ و مکالمات و مخاطبات حضرت احدیت و دیگر خوارق عادت بدرجہ اکمل و اتم پہنچائی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ان میں اور عالم ثانی میں ایک نہایت رقیق اور شفاف حجاب باقی رہ جاتا ہے۔ جس میں سے ان کی نظر عبور کرکے واقعات اخروی کو اسی عالم میں دیکھ لیتی ہے برخلاف دوسرے لوگوں کے کہ جو بباعث پُرظلمت ہونے اپنی کتابوں کے اس مرتبہ کاملہ تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے بلکہ ان کی کج تعلیم کتابیں ان کے حجابوں ؔ پر اور بھی صدہا حجاب ڈالتے ہیں اور بیماری کو آگے سے آگے بڑھا کر موت تک پہنچاتے ہیں۔ اور فلسفی جن کے قدموں پر آج کل برہمو سماج والے چلتے ہیں اور جن کے مذہب کا سارا مدار عقلی خیالات پر ہے وہ خود اپنے طریق میں ناقص ہیں اور ان کے نقصان پر یہی دلیل کافی ہے کہ ان کی معرفت باوجود صدہا طرح کی غلطیوں کی نظری وجوہ سے تجاوز نہیں کرتی اور قیاسی اٹکلوں سے آگے نہیں بڑھتی اور ظاہر ہے کہ جس شخص کی معرفت صرف نظری طور تک محدود ہے اور وہ بھی کئی طرح کی خطا کی آلودگیوں سے ملوث وہ شخص بمقابلہ اس شخص کے جس کا عرفان بداہت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے اپنی علمی حالت میں بغایت درجہ پست اور متنزّل ہے۔ ظاہر ہے کہ نظر اور