خداوند مجھ پاس آدمی نہیں کہؔ جب پانی ہلے تو مجھے اس میں ڈال دے اور جب تک میں آپ سے آؤں دوسرا مجھ سے پہلے اتر پڑتا ہے اب ظاہر ہے کہ وہ شخص جو
چھٹیؔ صداقت جو سورۃ فاتحہ میں مندرج ہے اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُُ ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اے صاحب صفاتِ کاملہ اور مبدء فیوض اربعہ ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں اور پرستش وغیرہ ضرورتوں اور حاجتوں میں مدد بھی
پوشیدہ بات نہیں یہ بات نہایت بدیہی ہے اور ہریک شخص ذاتی توجہ سے دیکھ سکتا ہے کہ جو کچھ آسمان اور زمین میں اجرام فلکی اور اجسام ارضی و نباتات اور جمادات اور حیوانات اور عناصر اور چاند اور سورج اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور طرح طرح کے جاندار اور انسان ہیں جن کی مشرک لوگ پوجا کرتے ہیں یہ سب چیزیں خدا کو سجدہ کرتی ہیں یعنی اپنی ہستی اور بقا اور وجود میں اس کی محتاج پڑی ہوئی ہیں اور بہ تذلّل تمام اس کی طرف جھکی ہوئی ہیں اور ایک دم اس سے بے نیاز نہیں پس انہیں چیزوں سے جو آپ ہی حاجتمند ہیں حاجتیں مانگنا صریح گمراہی ہے اور بعض انسان جو سرکش ہوجاتے ہیں وہؔ بھی تذلّل سے خالی نہیں کیونکہ اسی دنیا میں طرح طرح کے آلام اور اسقام اور افکار اور ہموم کا عذاب ان پر نازل ہوتا رہتا ہے اور آخرت کا عذاب بھی ان کے لئے طیار ہے پھر بجز خدا کے کون سی چیز ہے جس کے وجود پر نظر کرنے سے صفت غنی اور بے نیاز ہونے کی اس میں پائی جاتی ہے تا کوئی اس کو اپنا معبود ٹھہراوے اور جبکہ کوئی چیز بجز خدا کے غنی اور بے نیاز نہیں تو تمام مخلوق پرستوں کا باطل پر ہونا ثابت ہے یہ چند آیاتِ قرآن شریف ہیں جن کو ر گوید کی طول طویل شرتیوں کے مقابلہ پر ہم نے اس جگہ بیان کیا ہے اب وید کی شرتیوں میں جس قدر بے فائدہ طوالت اور فضول تقریر اور بے سروپا اور دھوکا دینے والا مضمون اور غیر معقول باتیں ہیں بمقابلہ اس کے دیکھنا چاہئے کہ کیونکر قرآن شریف کی آیات میں بکمال ایجاز و لطافت توحید کے ایک عظیم الشان دریا کو معہ دلائل حکمیہ و براہین فلسفیہ اقل قلیل الفاظ میں بھر دیا ہے اور کیونکر مدلّل اور موجز عبارت میں تمام ضروریات توحید کا ثبوت دے کر طالبین حق پر معرفت الٰہی کا دروازہ کھول دیا ہے اور کیونکر ہریک